انسانی زندگی خوبصورت ہے لیکن اس کا خوبصورت ترین حصہ بچپن ہے۔ بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ وہ نرم و ملائم ہوتے ہیں اور بڑی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں انکی جیسی پرورش وپرداخت ہوگی مستقبل بھی ویساہی روشن وتابناک ہوگا ہر قوم ومذھب میں تربیت اولاد کی اہمیت ہے مگراسلام میں اسکی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اسکو فرض قرار دیا ہے
اس لئے ماں باپ کو لازم ہے کہ بچوں کو بچپن ہی میں اچھی عادتیں سکھائیں اور بری عادتوں سے بچائیں بعض لوگ یہ کہہ کر ابھی بچہ ہے۔ بڑ ا ہوگا تو ٹھیک ہو جائے گا۔ بچوں کو شرارتوں اور غلط عادتوں سے نہیں روکتے۔ وہ لوگ در حقیقت بچوں کے مستقبل کو خراب کرتے ہیں اور بڑے ہونے کے بعد بچوں کے برے اخلاق اور گندی عادتوں پر روتے اور ماتم کرتے ہیں اس لئے نہایت ضروری ہے کہ بچپن ہی میں بچوں کی کوئی شرارت یا بری عادت دیکھیں تو اس پر روک ٹوک کرتے رہیں۔بچوں کی نشونما کے ساتھ ساتھ اپنے پرورش کے انداز میں تبدیلی لاتے رہیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ عمر کی تبدیلی سے بچوں کے رویوں میں تبدیلی ضرور آتی ہے۔ ذہنی نشونما کی وجہ سے جب آپ کا بچہ کلاس میں بہتر کارکردگی دکھانے لگتا ہے تو لازماً وہ گھر میں بھی آپ کے طور طریقوں پر سوالات اٹھائے گا۔ ان حالات میں سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔
اولاد کی تربیت کے بارے میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ '' کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے '' (سنن ترمذی )۔مذکورہ بالا حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اولاد کی تر بیت کو والدین کی اہم ذمہ داری قرار دیا ہے ۔ تو جب اللہ تعالیٰ انسان کو اوالا والی نعمت دے تو ماں باپ کو ان کی تر بیت کرنا چاہئے ۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔
بچہ سات برس کا ہوجائے تو نماز کی عادت ڈالو۔ جب مکتب میں جانے کے قابل ہوجائے تو اول قرآن مجید پڑھوائیں۔ بہت سویرے مت سونے دیں۔ اور جلدی اٹھنے کی عادت ڈالیں۔
یہ اولاد کے حقوق ہیں جو والدین اپنا اخلاقی اور معاشرتی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ اگر والدین ان حقو ق کی ادائیگی کریں تو ان کو اللہ کے ہاں ثواب ملے گا اور تربیت اولاد کے فریضے کی ادائیگی کے لئے ٹھوس بنیاد فراہم ہوگی یعنی اولاد کی تربیت کے لئے مناسب ٹریک فراہم ہوگی جس پر ان کی تربیت بہت اچھی طرح سے ہوتی رہے گی۔ لیکن اگروالدین بچوں کے ان اخلاقی حقوق کو نظرانداز کریں تو آئینی وقانونی طور پر ان کو مجرم نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔سب بچے چاہتے ہیں کہ وہ لاڈلے بنیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی نہیں بلکہ ہر بچہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ پیارا اور لاڈلا ہے۔ اگر بچوں کو گھر میں پیار نہیں ملے گا تو وہ کہیں اور سے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔بچوں کو محبت نہیں بگاڑتی۔ اصل میں جو چیزیں انہیں بگاڑتی ہے وہ، وہ ہے جو ہم انہیں محبت کے بجائے دیتے ہیں۔ ان میں نرمی، کم توقعات اور مادی اشیاء شامل ہیں۔
جب آپ بچے کی تعریف کرتے ہیں تو اسے اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ آپ بچے سے اچھا رویّہ چاہتے ہیں؟ اس کے لیے سب سے زیادہ حوصلہ ستائش یعنی تعریف سے ملتا ہے۔ اچھا کام کرتے ہوئے اپنے بچوں کو جتنا سراہیں گے اور کھل کر ان کی تعریف کریں گے، اچھا رویّہ رکھنے میں وہ اتنا آگے آگے رہیں گے۔
بچہ / بچی والدین کے پاس امانت ہے اور اس کا دل منقش پاکیزہ موتی کی طرح ہوتا ہے جس پر کچھ بھی نقش کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی ا چھی پرورش کی جائے تو وہ دنیا اور آخرت میں سعادت مند رہتا ہے اور اپنے والدین و اساتذہ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کی غلط تربیت کی جائے اور اس پرصحیح توجہ نہ دی جائے تو یہ اس کے لیے باعث شقاوت و ہلاکت بن جاتا ہے جو کہ نہ صرف اس بچے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ اس کا وبال بچے کے سر براہ اور ذمہ دار پر بھی پڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے سائنسدانوں کے مطابق جن بچوں کو بچپن میں ان کے والدین مارتے پیٹتے ہیں، ان بچوں کا دوسرے بچوں سے جھگڑنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ وہ دوسرے بچوں کو تنگ کرنے والے اور مسائل کے حل کے لیے جارحانہ انداز اپنانے والوں میں سے بن سکتے ہیں۔
والدین کا فریضہ ہے کہ وہ بچوں کو مناسب عمر میں رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیں۔ فتنہ کے اس دور میں بہت دیر سے شادیاں معاشرتی بگاڑ کا ایک بڑا سبب ہے۔ بچیوں کے سلسلے میں بھی یہ امر ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ جب ان کے لیے مناسب رشتہ کا انتظام ہو جائے اور عمر بھی مناسب ہو تو شادی کردینی چاہیے۔ والدین کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد میں ہمہ قسم مساوات و انصاف سے کام لیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box