انسانیت بنیادی طور اس تصور کا نام ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا ہے۔ لفظ انسانیت کے لغوی معنی و مفہوم۔لفظ انسانیت کئی معنوں میں مستعمل ہے۔اصطلاح انسانیت وہی ہے جو ان تمام مضامین کو محیط کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے جو انسان کی حالت ، کارکردگی اور طرز عمل سے متعلق ہے ۔
قرآن میں ارشاد ربانی ہے:
لوگوں!اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیئے اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتہ وقرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔
بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے وہ خونچکاں حالات، جہاں جان ومال، عزت وآبرو ہر چیز خطرے میں تھی، اس کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک روح فرسا کیفیت طاری ہوجاتی ہے، اخوت ومحبت ، ہمدردی وغم گساری، نامانوس بلکہ ناپید تھی، معمولی معمولی سی باتوں پر جنگ چھڑ جاتی اور ایسی بھیانک شکل اختیار کرلیتی، جس کا تذکرہ تو کجا تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے، غرض ہر طرف ظلم وبربریت کا دور دورہ تھا، ایسے مہیب سائے میں فاران کی چوٹی سے ایک آفتاب عالمتاب نمودار ہوا جس کی ضیاء پاش کرنوں سے ایک نئی صبح کا آغاز ہوا، دم توڑتی اور جاں بلب انسانیت کو آبِ حیات ملا، اور انسانیت پہلی بار اپنے حقوق سے آشنا ہوئی۔اسلام نے انسانیت کی مدد کرنے کا درس دیا ہے۔ دکھی انسانیت کی مدد کرنا بہت عظیم کام ہے۔ تمام معاشروں میں خدمت خلق انسانی اقدارکی بلند تر صفات کا حصہ ہے۔ہم مسلمان جنھیں ہمارا مذہب دکھی انسانیت کی خدمت کا باقاعدہ حکم دیتا ہے، ہم پر تو دکھی انسانیت کی خدمت کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے بہت بڑی رقم خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ جس کے پاس جتنی استطاعت ہو، وہ اتنی رقم خرچ کرکے خدمت خلق کرسکتا ہے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرتا ہے قیامت کے روز میرے سامنے اس طرح کھڑا ہوگا جیسے میری دو انگلیاں ، خدمت خلق عبادت ہے۔ اور ہمارا عقیدہ ہے کہ خدمت سے ہی خدا ملتا ہے۔
مسلم شریف کی روایت ہے:
ــــ’’مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور وہ شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے جوا س کے کنبے کے لئے زیادہ مفید ہو۔‘‘
انسانیت کے معنی
ـ ’’آدمیت،بشریت،تمیز،شعور ،عقل انسانیت سے پیش آنا ،مروت کا برتاؤکرنا ،اخلاق و تہذیب سے بات چیت کرنا ‘‘ انگریزی لغت میں انسانیت کے لئے Humanityکا لفظ استعمال ہوتا ہے۔جب انسانیت اور نظریات کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے تو انسانیت کو بھی بہتر سمجھا جا سکتا ہے. ایک طرف الہام المسلمین ہے، کسی عقیدہ کے نظام کی وضاحت کرنا جو قدرتی الشان دنیا سے علیحدگی کا باعث بنتی ہے، جس میں ہم رہتے ہیں. اس کی اخلاقیات انسانی فطرت اور انسانی تجربے پر مبنی ہے. یہ انسانی زندگی کی اقدار اور ہماری زندگیوں سے لطف اندوز کرنے کی صلاحیت ہے جب تک ہم عمل میں دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتے ہیں۔ انسانیت ایک آفاقی جذبہ ہے، اور خدا کی خوشنودی کا واحد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ یہ جذبہ مختلف معاشروں میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
انسان اور انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی بنیاد اگر کوئی چیز ہو سکتی ہے تو وہ تقوی ہے ،تمام انسان یکساں ہیں ان سب کو پید کرنے والا ایک ہی مالک حقیقی ہے ۔
آج انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے انسان خودغرض ہوگیا ہے ،انسانیت کا یہ عمل معاشرہ کو انحطاط اور پستی کی دلدل میں کھینچ رہا ہے معاشرہ کا امن و سکون مفقود ہو چکا ہے، لہذا انسانیت حل قرآن و سنت میں ہی موجود ہیں جو انسانیت کو اس د لدل سے نکال سکتا ہے ۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box