موسمِ سرما میں خشک میوہ جات کو قدرت کا بہترین تحفہ کہاجائے، تو غلط نہ ہوگاکہ یہ نہ صرف غذائیت بلکہ ذہنی اور جسمانی توانائی کا بھی سبب ہیں۔پروٹین سے بھرپور خشک میوہ جات کا استعمال صحت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جاتا ہے مگر اس کے استعمال کے جہاں انسانی مجموعی صحت پر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں چند نقصانات بھی ہیں جنہیں جاننے کے بعد ڈرائی فروٹ کو غذا کا حصہ بنانا چاہیے۔پروٹین سے بھرپور خشک میوہ جات کا استعمال صحت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جاتا ہے مگر اس کے استعمال کے جہاں انسانی مجموعی صحت پر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں چند نقصانات بھی ہیں جنہیں جاننے کے بعد ڈرائے فروٹ کو غذا کا حصہ بنانا چاہیے۔اگرچہ بھرپور ذائقہ دار خشک میوہ جات میں صحت کے لیے ضروری غذائی جز پروٹین، ضروری فیٹی ایسڈ اور اینٹی آکسیڈینٹ پائے جاتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق خشک میوہ جات کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔میوہ جات کے شوقین پوری دنیا میں ہیں، ساتھ ساتھ ٹھنڈے علاقوں میں رہنے والوں کے لیے یہ زندگی کی لوازمات میں سے ہیں۔ یہ نہ صرف خوش ذائقہ اور صحت کے لیے مفید ہیں، بلکہ جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھاتے ہیں۔ میوہ جات کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ باقی غذا کی طرح جلدی خراب نہیں ہوتے اور ذخیرہ کرنے کے کام بھی آتے ہیں۔سردیوں میں کھائے جانے والے خشک میوے اپنے اندر وہ تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہے ، مگر مہنگائی کے باعث خشک میوے شہریوں کی دسترس سے دور ہوکر رہ گئے ہیں ۔
اطباء کے مطابق سردیوں میں جو کچھ کھایا جائے وہ جسم کو لگتا ہے کیونکہ اس موسم میں نظامِ ہضم کی کارکردگی تیز ہوجاتی ہے اور گرمیوں کے مقابلے میں زیادہ کام کرنے کو دل چاہتا ہے لیکن دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوں تو پھر ان لمبی راتوں کو گزارنے کے لیے خشک میوے نہایت اچھے رفیق ثابت ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک میوہ جات پھلوں، گوشت اور انڈوں کے برابر مقدار میں پروٹین نہیں دے سکتے مگر ان سے حاصل ہونے والا پروٹین زیادہ مفید ہوتا ہے ۔ بادام نہار منہ کھانے سے ذہانت میں اضافہ اور کمر پتلی ہوتی ہے ۔ اخروٹ میں وٹامن اور معدنی نمک پایا جاتا ہے جس نہ صرف مسلز مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے میٹابولزم بھی تیز ہوتا ہے۔
میوہ جات میں بادام، پستہ،اخروٹ، کاجو، مونگ پھلی، چلغوزے، خوبانی، ناریل، کشمش، انجیر اور دیگر شامل ہیں۔
موسمِ سرما میں خشک میوہ جات کو قدرت کا بہترین تحفہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگاکہ یہ نہ صرف غذائیت بلکہ ذہنی اور جسمانی توانائی کا بھی سبب ہیں۔ سردموسم کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں بادام، پستہ، اخروٹ، کاجو، مونگ پھلی، چلغوزے، خوبانی، ناریل، کشمش، انجیر اور دیگر خشک میوہ جات کے ڈھیرنظر آنے لگتے ہیں۔
بادام میں ایک مخصوص مقدار میں فائبر موجود ہوتا ہے جس سے جسم کو سم ربائی میں مدد ملتی ہے۔ بادام کا استعمال کھانے کو ہاضمہ نظام میں آسانی سے منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بادام میں ان میں فائبر زیادہ ہوتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق خوبانی میں وٹامن اے بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے اسی لیے اس کا استعمال کمزور نظر کو تیز کرتا ہے، جَلد بڑھاپے اور اعصابی کمزوری سے تحفظ فراہم کرتا ہے، گھٹنوں، جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے محفوظ رکھتا ہے اور دل و دماغ کو طاقت بخشتا ہے۔
پستہ ۔یہ پھیپھڑوں سے بلغم خارج کر کے انہیں صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ پستے کھانے کا با قاعده استعمال سے دل کی دھڑکن بہتر ہو جاتی ہے اور بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے جس کی وجہ سے زہنی تنائو میں بھی واضع کمی آتی ہے۔ وبائی امراض میں مغز پسته ایک تولہ اور کوزہ مصری ہم وزن لے کر انکا استعمال نہایت فائدے مند ہے۔اخروٹ میں فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز کے حوالے سے بھی یہ بہترین ہے۔ اگرآپ روزانہ اخروٹ کھائیں توآپ کا میٹابولک نظام بہتر حالت میں رہے گا۔
اخروٹ کھانے سے خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری جبکہ جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے، یہ دونوں عناصر ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
انجیر ہاضمہ بہتر بناتی ہے، اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتا ہوتو اس کا گودہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتی ہے۔ انجیر کو مغر بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتی ہے۔
ماہرین روزانہ پانچ کشمش کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، ان کے مطابق یہ اینٹی ایجنگ ہونے کے سبب جھائیوں سے حفاظت،دوران خون میں بہتری لانے کے ساتھ دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ میوہ کاربوہائیڈریٹ ہونے کے سبب جسمانی توانائی بڑھاتا اور بے خوابی سے نجات دلاتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں بھی مفید ہے۔
مونگ پھلی معدے اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتی ہے۔ مونگ پھلی کمزور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اس لیے اسے کھانا صحت کے لیے بہتر ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ یہ شوگر کے لیول کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔مغز چلغوزہ، جریان ، یرقان اور گردے کے درد میں بے حد مفید ہے، اس کا کھانا جسمانی گوشت کو مضبوط کرتا ہے، رعشہ اور جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔
مغز چلغوزہ صبح و شام پانی، قہوہ یا چائے کے ساتھ استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ چلغوزہ بلغمی مزاج والوں کے لیے ایک ٹانک ہے، کھانا کھانے کے بعد اس کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔
کچا ناریل کھانے اور اس کا پانی پینے سے گلے کے انفیکشن ، برونکائٹس ، ٹیپ ورم اور جرثوموں کی وجہ سے ہونے والے دیگر انفیکشن کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ وٹامن سی، ای، بی1، بی3، بی 5اور بی 6سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ ساتھ ہی آئرن، سیلینیم، سوڈیم، کیلشیم اور میگنیشیم کے حصول کا بھی عمدہ ذریعہ ہے۔
کاجو کولیسٹرول کو دور کر کے جسم کے اعضاء میں فالتو چربی کو پگھلا کر موٹاپے کو دور بھگانے میں بے حد مفید پے اور یہ اینٹی آکسیڈ ینٹ سے بھی بھرپور ہوتا ہے اور دل کی مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box