عورت کی قسمیں جن کے بارے میں معلومات نہ ہیں


 آج  گفتگو کا موضوع عورت ہے جو ایک بہت ہی وسیع اور مشکل موضوع ہے۔ اس کے وسیع اور مشکل ہونے کا اندازہ کرنے کے لئے، ہم بات کو یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ۔۔ بنی ہوئی چیزوں مصنوعات و مخلوقات کو اس کا بنانے والا سب سے زیادہ سمجھتا ہے پھر اس کا استعمال کرنے والا۔عورت ۔ مادہ یا مؤنث انسان کو کہا جاتا ہے۔

عورت یا زنانہ بالغ انسانی مادہ کو کہاجاتا ہے جبکہ لفظ لڑکی انسانی بیٹی یا بچّی کے لیے مستعمل ہے۔ تاہم، بعض اوقات، عورت کی اِصطلاح تمام انسانی مادہ نوع کی نمائندگی کرتی ہے۔عورت تاریخ کے ہر دور میں مرد کے تابع رہی ہے۔ اسلام سے قبل عورت کی حالت زار ناقابل بیاں تھی۔ عورت کو محض بچے پیدا کرنے اور خاوند اور بچوں کی خدمت کے قابل ہی سمجھا جاتا تھا۔ عرب معاشرے میں عورتوں کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی تھی۔ گھر میں عورت کے وجود کو مرد اپنی توہین سمجھتا تھا۔ عرب معاشرے میں بچیوں کو زندہ دفن کرنے کا بھی رواج تھا۔ لیکن جب اسلام کا سورج عرب کی سر زمین پر طلوع ہوا تو اس سے عورت کی تاریک زندگی میں بھی روشنی کی بارش ہونے لگی۔ اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیے جن زمانہ جاہلیت میں تصور بھی نہ ممکن تھا۔ اسلام نے عورت کے مختلف حیثیتوں میں حقوق متعین کیے اور ان کی ادائیگی کو اپنے ماننے والوں پر لازمی قرار دیا۔اسلامی تعلیمات کی رو سے شرعی احکام میں عورت بھی مرد کی طرح ہے ، جو مطالبہ مردوں سے ہے وہی عورت سے اور جن افعال کے کرنے یا نہ کرنے پر جو مرد کو ہے وہی عورت کو بھی ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :

اور جو نیک کام کرے گا ، مرد ھو یا عورت ، اور وہ صاحب ایمان بھی ھو گا تو ایسے لوگ جنت میں داخل ھونگے ، اور انکی تل برابر بھی حق تلفی نہیں کی جاۓ گی } ( النساء : 144 )

  خواتین کی تاریخ، عورتوں کی تاریخ یا تاریخ کا نسوانی مطالعہ دراصل تاریخ کے مطالعے کا وہ پہلو اور وہ شاخ ہے جو خواتین کے بارے، ان کے صفحات تاریخ کے ظاہری پس پردہ کرداروں، ان کے سماج حاصل مقام اور حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوکوں کا مطالعہ ہے۔ اسی تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں کئی خواتین قائدانہ کردار نبھا چکی ہیں۔ ان میں کچھ خواتین کی مثالیں رضیہ سلطان، چاند بی بی، رانی لکشمی بائی، ملکہ وکٹوریہ، ملکہ ایلیزبیتھ اول اور ملکہ ایلیزبیتھ دوم رہے۔ 

  تہذیب کی ترقی میں عورتوں کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ انہوں نے معاشرے میں خوبصورتی اور نفاست کا احساس پیدا کیا۔ مثلاً برتنوں پر نقش و نگار بنا کر انہیں خوبصورت بنایا، گھروں کو بھی سلیقے سے ترتیب دیا تاکہ محنت کے بعد گھر میں سکون اور آرام مل سکے۔

  عورت کسی بھی معاشرے کی تشکیل کرتی ہے۔ وہ اپنے خاندان کی زندگی بناتی ہے، خالی مکان کو گھر میں تبدیل کرتی ہے، بچوں کی پرورش کرتی ہے اور انہیں اچھا شہری بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ بحیثیت مجموعی اس کا کام ہے کہ ایک مثالی خاندان، مثالی معاشرے اور مثالی ریاست کی تعمیر کرے۔

عورت کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

"ایک عورت وہ ہے جو پاک دامن،نرم طبیعت،محبت کرنے والی اور زیادہ بچے پیدا کرنے والی ساوہ طبیعت کی ہو۔فیشن پر نہ چلتی ہو۔مگر ایسی عورتیں کم ہوتی ہیں"

"دوسری عورت جو زیادہ بچے جننے کے ساتھ زیادہ مطالبے کرنے والی ہو"

"تیسری وہ عورت جو مرد کے گلے کا طوق ہو۔بداخلاق ہو،جس کا حق مہر زیادہ ہو۔ایسی عورت کو اللہ تعالیٰ جس کی گردن میں چاہتے ہیں ڈال دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اس کی گردن سے اتار دیتے ہیں"۔

   خواتین کا دماغ جہاں دیگر صلاحیتوں میں مرد سے زیادہ متحرک اور تیز ہوتا ہے وہیں اس کی خامی یہ ہے کہ یہ پرخطر اور کٹھن صورتحال کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس جب مردوں کو کسی خطرے یا برے حالات کا سامنا ہوتا ہے تو ان کا دماغ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی