اذان" اسلام میں نماز کے لیے پکار کو کہتے ہیں۔ دن میں5 مرتبہ فرض نمازوں کے لیے موذن یہ فریضہ انجام دیتا ہے۔ نماز سے قبل صف بندی کے لیے دی جانی والی اذان اقامت کہلاتی ہے۔شریعت کی اصطلاح میں اذان سے مراد وہ مخصوص کلمات ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔
اذان کے لغوی معنی ہیں، خبردار کرنا، اطلاع دینا اور اعلان کرنا۔اذان کی ابتدا مدینہ منورہ میں 1 ہجری میں ہوئی اس سے پہلے نماز، اذان کے بغیر ہی ادا کی جاتی تھی۔
سن ١ ھجری کو جب مدینہ طیبہ میں جب نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد بنائی گئی تو اس ضرورت محسوس ہوئی کہ لوگوں کو جماعت کا وقت قریب ہونے کی اطلاع دینے کا کوئی خاص طریقہ اختیار کیا جائے۔ رسول اللہ نے جب اس بارے میں صحابہ کرام سے مشاورت کی تو اس سلسلے میں چار تجاویز سامنے آئیں :
نماز کے وقت بطور علامت کوئی خاص جھنڈا بلند کیا جائے۔
کسی بلند جگہ پر آگ روشن کر دی جائی۔
یہودیوں کی طرح سینگ بجایا جائے۔
مسیحیوں کی طرح ناقوس بجایا جائے۔
مذکورہ بالا سبھی تجاویز آنحضرت کو غیر مسلم اقوام سے تشبیہ کے باعث پسند نہ آئیں۔ اس مسئلے میں آنحضرت اور صحابہ کرام متفکر تھے کہ اسی رات ایک انصاری صحابی حضرت عبداللہ بن زید نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے انہیں اذان اور اقامت کے کلمات سکھائے ہیں۔ انھوں نے صبح سویرے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب بیان کیا تو آنحضرت نے اسے پسند فرمایا اور اس خواب کو اللہ تعالٰی کی جانب سے سچا خواب قرار دیا۔ آنحضرت نے حضرت عبداللہ بن زید سے فرمایا کہ تم حضرت بلال کو اذان کے ان کلمات کی تلقین کر دو، ان کی آواز بلند ہے اس لیے وہ ہر نماز کے لیے اسی طرح اذان دیا کریں گے۔ چنانچہ اسی دن سے اذان کا یہ نظام قائم ہے اور اس طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے موذن قرار پائے۔ اذان سنت موَکدہ ہے لیکن اس کی تاکید فرض جیسی ہے۔ یہ توحید باری تعالیٰ کا اعلان اور رسالت نبی کریمﷺ پر ایمان کا اقرار ہے۔ اﷲ اکبر کی صدائے دل نواز حق و صداقت کی سربلندی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت ، عظمت و بزرگی، ہمیشگی اور بقاء کا مستقبل پیغام ہے۔
اذان کے کلمات اور ان کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ مؤذن مسجد میں اونچی جگہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر کانوں میں انگلیاں ڈال کر یا کانوں پر ہاتھ رکھ کر اَﷲُ اَکْبَرُ اﷲُ اَکْبَر کہے، پھر ذرا ٹھہر کر اَﷲُ اَکْبَرُ اﷲُ اَکْبَر کہے۔ پھر دو دفعہ اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲ کہے، پھر دو دفعہ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲ کہے، پھر دائیں طرف منہ پھیر کر دو بار حَیَّ عَلَی الصَّلٰوة کہے، پھر بائیں طرف منہ کر کے دو بار حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کہے، پھر قبلہ رُو منہ کر لے اور اَﷲُ اَکْبَرُ اﷲُ اَکْبَر کہے پھر ایک بار لَا اِلٰهَ الاَّ اﷲُ کہے۔ صبح کی اذان میں یہ الفاظ بھی کہے اَلصَّلٰوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔قرآن مجید میں اذان کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے.
وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ.
(المائدة، 5:58)
’’اور جب تم نماز کے لیے( لوگوں کو بہ صور تِ اذان) پکارتے ہو۔‘‘اذان میں حيّ عليٰ الصّلوة کے وقت دائیں طرف اور حيّ عليٰ الفلاح کے وقت بائیں طرف منہ پھیرنا مسنون عمل ہے۔ حضرت عبداللہ ابن زید رضی اللہ عنہ کو فرشتے نے نیم خواب کی حالت میں اسی طرح اذان سکھائی تھی،لہذا اذان کو مسنون طریقے سے ادا کرنے کے لیے ان کلمات کی ادائیگی کے وقت مذکورہ عمل کیا جاتا ہے۔
و
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box