بلیوں کے بارے معلومات

بِلی یا پالتُو بِلی، گوشت خور ممالیہ جانور ہے۔

ایک اندازے کے مطابق، اِنسان نے بلی کو قریباً دس ہزار سال پہلے سدھایا یا پالتو بنایا۔ بلی آج کے دور میں سب سے عام پالتو جانوروں میں سے ایک ہے۔ 

بلیوں کو پہلے پہل شاید اس وجہ سے سدھایا گیا کہ یہ چوہے کھاتی تھیں اور آج تک یہ جہاں اناج محفوظ کیا جاتا ہے، اسی مقصد کے لیے پالی جاتی ہیں۔ بعد ازاں ان کو انسان کے دوست اور پالتو جانور کے طور پر بھی پالا جانے لگا۔

پالتو بلیوں کے جسم پر لمبے یا چھوٹے بال ہو سکتے ہیں، جس کی بنیاد پر ان کی اقسام اور نسلوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ 


اس دبلی پتلی جانور میں کافی مضبوط عضلہ ہے اور یہ ہمیشہ عمدہ جسمانی شکل میں ہوتا ہے۔ نسل کی لمبی بالوں والی اور چھوٹے بالوں والی شکل ہے ، اور دونوں شکلوں میں ، کوٹ چمکدار اور جسم کے قریب ہونا چاہئے۔ مشرقی بلی کا رنگ 300 سے زیادہ شیڈز ہیں ، اور وہ سب قابل قبول ہیں۔ ان کی فہرست بنانا صرف ناممکن ہے۔










ا بعض افراد خاص طور پر کسی اچھی نسل کی بلی کو اپنے گھر کا حصہ بناتے ہیں، جبکہ زیادہ تر مواقعوں پر ادھر ادھر گھومتی بلی ایک دو بار کوئی کھانے کی شے مل جانے کے بعد مذکورہ گھر سے مانوس ہوجاتی ہیں۔بلی کا پاخانہ اور پیشاب لگنا یقینی ہو اس جگہ کو دھو کر پاک کرلیا جائے، اس لیے کہ بلی کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔ اور جن کھانے پینے کی چیزوں پر بلی کا منہ لگانا یقینی طور پر معلوم ہو  تو صرف بلی کے منہ والی جگہ کو بلا ضرورت کھانا یا پینا مکروہ تنزیہی ہے، اس کے علاوہ باقی حصہ پاک ہے، اس کا استعمال بلا کراہت درست ہے۔اور جن چیزوں پر بلی کا پیشاب، پاخانہ یا لعاب لگنا یقینی نہ ہو ان چیزوں کو پاک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

بلیوں کو قدیم دور کے بعد مشرق قریب میں عقیدت سے دیکھا جاتا تھا۔ اسلام نے اس روایت کو اپنے انداز میں اپنا لیا، جو اس عقیدت سے بالکل ہٹ کر ہے جو دیگر قدیم مذاہب میں بلی کو دی۔ بلی پالنا جائز ہے، اس میں شرعاً  کوئی حرج نہیں۔








إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ –بلی ناپا نہیں ہے، یہ ہر وقت گھر میں آمد ورفت رکھنے والوں اور رکھنے والیوں میں سے ہے ۔

حدیث کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلیوں پر ظلم و تشدد کرنے اور قتل کرنے سے منع کیا ہے۔

ایک صحابی کی کنیت ہی ابو ہریرہ یعنی بلیوں والا ہے : ایک دن ابو ہریرہ نے دیکھا کے گرمی کی شدت سے ایک بلی دیوار کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے، تو انہوں نے اسے اٹھا کر گرمی سے بچانے کے لیے اپنی آستین میں چھپا لیا۔ 

 8 اگست کو بلیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے؟ اس دن کو منانے کا آغاز جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ادارے انٹرنیشنل فنڈ فار اینیمل ویلفیئر کی جانب سے سنہ 2002 میں کیا گیا تھا۔


تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی