اردو شاعری کا تعارف


 شاعری ایک بہت ہی معروف روایت اور انتہائی مقبول صنف ہے۔ اس کی بہت ساری مختلف اقسام ہیں۔ زیادہ تر شعری اصناف اور ڈھانچے عربی زبان سے ماخوذ ہیں۔ آج کل اردو شاعری جنوبی ایشیا کی تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ میر، درد، غالب، انیس، داغ، دبیر، اقبال، ذوق، جوش، اکبر، جگر، فیض، فراق، عبدالعزیز آصف ،شکیب جلالی، احمد ندیم قاسمی، اردو شاعری کے سب سے بڑے شعرا میں سے ہیں۔ 

  غزل  کے لغوی معنوی ایسا کلام جس میں عورتوں کے حسن و عشق کا بیان ہو۔ اصطلاح میں غزل ایسے اشعار کو کہتے ہیں جن میں عشق و محبت، حسن و جمال اور محبوب کا تذکرہ ہو۔ ہجر و فراق، آنسو، شبنم، خد و خال، وفا اور جفا، گل و بلبل، صبح و شام وغیرہ غزل کے چند اہم موضوعات ہیں۔ نعت: اس صنف میں مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی جاتی ہے۔

حمد: لفظ حمد قرآن کا سب سے پہلا لفظ ہے اور یہ لفظ اللہ پاک کی تعریف کے لیے خاص ہے۔ اردو شاعری کی اس صنف میں اللہ پاک کی تعریف کی جاتی ہے۔

منقبت: یہ صنف تصوف میں زیادہ مقبول ہے۔ اس میں صحابۂ کرام اور بزرگانِ دین کی تعریف میں اشعار کہے جاتے ہیں۔مرثیہ: پچھلے زمانے کی بہت ہی مقبول صنف ہے۔ اس میں حسن و حسین کی شہادت کا قصہ بڑے رزمیہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر ایک روایتی مرثیہ اپنی ترکیب میں مندرجہ ذیل اجزا کا حامل ہوتا ہے۔

تمہید،چہرہ ،سراپا ،رخصت ،آمد ،رَجَز ،جنگ ،شہادت

دعا

مثنوی: اس صنف میں عشقیہ داستان کو دو شعری انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا کہ یہ نثر کی مشہور صنف داستان کی شعری شکل ہے۔ داستان ہی کی طرح اس میں دوسری دنیا کی خیالی باتیں، جن اور پریوں کی کہانیاں، جادو اور جنگ کی باتیں ہوتی ہیں۔ اردو کی سب سے پہلی مثنوی کدم راو پدم راو ہے۔ میر تقی میر اور سودا نے کچھ اہم مثنویاں اِرقام کی ہیں۔ میر حسن اور دیا شنکر نسیم کو مثنوی کا استاد مانا جاتا ہے۔ ان کی مثنویاں بالترتیب سحر البیان اور گلزار نسیم ہیں۔اردو شاعری میں مندرجہ ذیل عناصر پائے جاتے ہیں۔

بیت:

بیت الغزل: غزل کا سب سے اچھا شعر ،بحر: وہ مقررہ پیمانے جن کے اوزان میں شعر کہا جا سکے۔ بحر چھوٹی اور بڑی ہو سکتی ہیں۔

دیوان: کسی بھی شاعر کے مکمل غزلیہ کلام کا مجموعہ

حسن مطلع: اگر ایک غزل میں دو مطلع ہو تودوسرا مطلع حسنِ مطلع ہو گا۔

کلام: شاعر کا کوئی بھی شعر یا اس کی کوئی بھی تخلیق کلام کہلاتی ہے۔

کلیات: کسی ایک شاعر کا مکمل کلام۔

مقطع: غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص بیان کرتا ہے۔

مطلع: غزل کا پہلا شعر جو ہم قافیہ و ردیف ہوتا ہے۔مصرع: ایک شعر دو مصرعوں سے مل کر بنتا ہے۔ ہر ایک لائن ایک مصرع کہلاتی ہے۔

مشاعرہ: ایک ادبی پروگرام جس میں شعرا اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔ مشاعروں میں غزل کافی مقبول ہے۔قافیہ: شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ۔ الفاظ الگ الگ ہوتے ہیں مگر ہم وزن ہوتے ہیں۔ مثال:

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے۔ردیف: قافیہ کے بعد آنے والا لفظ یا الفاظ۔ جیسے مذکورہ ابیات میں "کیا ہے" ردیف ہے۔ یہ پوری غزل میں یکساں رہتے ہیں اور یہی غزل کی ظاہری خاصیت ہے۔شعر: ایک شعر دو مصرعوں سے مل کر بنتا ہے۔ ہر شعر کا اپنا ایک وزن ہوتا ہے۔ ایک غزل کے سارے اشعار ہم وزن ہوتے ہیں اور ایک ہی بحر میں ہوتے ہیں۔

شاعر: خدا کی ایسی مخلوق جو انسانوں میں پائی جاتی ہے اور اپنی بات کو ساحرانہ انداز میں پیش کرکے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتی ہے۔ یعنی وہ انسان جو اشعار کہے۔شاعری: شعر کہنے کا فن شاعری کہلاتا ہے۔

تخلص: غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنا نام اِرقام کر دیتا ہے۔ عام طور پر یہ نام اصل نام سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ شاعر اپنی پوری شاعری اسی نام سے کرتا ہے۔ جیسے مرزا اسد اللہ خان کا تخلص غالب ہے۔ترنم: اس کا تعلق غزل گوئی سے ہے۔ یہ فن موسیقی کی ایک اصطلاح ہے۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی