اسلامی تعلیم کا بنیادی مقصد انسانی معاشرے کی اصلاح کرنا ہے، اور اس طرح اصلاح کرنا ہے کہ دنیا میں تمام انسان امن و امان کی زندگی بسر کریں اور اس طرح زندہ رہیں کہ اخلاق کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹے اور آخرت کی لامتناہی زندگی کے لیے پورے اخلاق و تقویٰ کے ساتھ تیاری کریں اﷲ ان سے راضی ہو۔وقت اصلاح معاشرہ کا کام بے حد ضروری اور اہم ہے، آج کے دور میں اصلاح معاشرہ کی امت مسلمہ کو بڑی ضرورت ہے، حقیقت یہ ہے اصلاح معاشرہ کی طرف خاطر خواہ توجہ دینا موجودہ دور میں امت مسلمہ کی اولین ذمہ داری ہے۔آج ہمارے معاشرے میں شدید اخلاقی انحطاط پایا جاتا ہے۔ لوگ جوق در جوق بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔لوگوں نے نیکی اور بدی، حلال اور حرام کی سمجھ بوجھ ر کھنا چھوڑ دیا ہے۔ آخر اس معاشرتی بگاڑ کی وجہ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کررہے ہیں، کیا ہم اپنے نفس کا محاسبہ کررہے ہیں، کیا ہم سیدھے راستے پر ہیں، کیا ہم اپنے ماتحت اور اہل و عیال کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں، کیا ہم اپنے حقوق اور فرائض اچھے طریقے سے ادا کررہے ہیں؟ین آج ہمارا معاشرہ کئی قسم کی برائیوں میں مبتلا ہے مثلا ًذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش، لوٹ مار، ڈاکا زنی، انسانوں کا اغواء قتل و غارت گری، وعدہ خلافی، خیانت، بددیانتی، چغل خوری، بہتان، غیبت، رشوت خوری، جوا اور سود وغیرہ۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.
(آل عمران، 3: 104)
’’اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔‘‘ معاشرہ انہی دو اصولوں پر قائم ہے۔ اسلام کا معاشرتی نصب العین یہ ہے کہ زندگی کی ضرورتوں اور کفالتوں میں سارے انسان ایک برادری کے مانند ہیں اور اس خاص دائرے میں زندہ رہنے اور پھلنے پھولنے کا حق سب کو حاصل ہے۔ خود توحید کا عقیدہ نسل انسانی کی شیرازہ بندی کو مستحکم کرتا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کی حیات طیبہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے دو بنیادی اصولوں پر عمل کیا، ایک تو یہ کہ آپ نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی، جس پر آپ خود عمل نہ فرماتے ہوں، حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کے قول و فعل میں کبھی تضاد نہ تھا، جو فرماتے تھے خود اس پر عمل فرماتے تھے۔ اب یہ بات واضح ہو گئی کہ اصلاح معاشرہ کی کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اصلاح کرنے والا خود اس پر عمل نہ کرتا ہو،۔اصلاحِ معاشرہ کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ پہلے اپنی اصلاح کرنے سے ان تمام پیچیدگیوں کا بھی علم ہوجاتا ہے جو دوسروں کی اصلاح کرنے کی صورت میں پیش آسکتی ہیں۔ سب سے پہلے اپنی اصلاح کے اصول پر عمل کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ افراد کے سامنے اصلاح کا ایک معیاری تصور واضح صورت میں نمایاں ہوتا ہے اور ہر شخص اس معیار کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا چلا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکاردوعالم علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن آدمی کے پاؤں اسوقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کرلیا جائے گا،ایک اسکی عمر کے متعلق کہ زندگی کے ماہ و سال کہاں ضائع کئے،دوسرے جوانی کے بارے میں کہ کس چیز میں کھوئی،تیسرے مال کے سلسلے میں کہ کہاں سے کمایا،چوتھے یہ کہ وہ مال کہاں خرچ کیا اور پانچویں یہ کہ جو باتیں وہ جانتا تھا ان پر کتنا عمل کیا۔ہم میں سے ہر شخص کو اللہ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے کسی کے پاس کم ہے کسی کے پاس زیادہ۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس صلاحیت کو کس طرح بروئے کار لاسکتے ہیں۔ کس حد تک ہم اس کا مثبت یا منفی استعمال کرسکتے ہیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمیں اسی سمجھداری، بردباری، دانشمندی سے کام لینا ہوگا ہمیں خود سمجھنا ہوگا کہ ہمارے آس پاس کا ماحول کیسا ہے۔ ہمیں اس میں خود کو کس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box