درخت ایسے نباتات ہیں جن کا عموماً ایک بڑا تنا ہو جو اوپر جا کر شاخوں میں تقسیم ہو جائے۔ ان شاخوں پر پتے، پھول اور پھل ہوتے ہیں۔ کچھ ماہرین درخت کے لیے ایک کم سے کم اونچائی بھی ضروری سمجھتے ہیں جو 3 سے 6 میٹر تک ہے۔ درخت زمین پر زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ یہ نہ صرف جانوروں بشمول انسانوں کی غذا بنتے ہیں بلکہ زمین پر آکسیجن کا تناسب بگڑنے نہیں دیتے۔ دن کے وقت درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔
پاکستان میں روہی، تھل اور دامان کے علاقوں میں پیدا ہونے والا خود رو درخت جال جس کے پھل کو پیلو کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ دنیا کے قدیم ترین درختوں میں سے ایک ہے۔
اس پھل کو چننے یا توڑنے کا عمل کافی مشکل ہے۔ اسے عورتیں ٹولیوں کی صورت میں جا کر چنتی ہیں۔ اسے اول بیچا نہیں جاتا اور اگر کوئی عورت اسے بیچتی ہے تو اس کا وزن دستیاب ترازو میں نہیں ہوتا بلکہ ایک برتن جسے پڑوپی اور کچہی کہا جاتا ہے اسے بھر کے بیچا جاتا ہے یوں پیسے فی پڑوپی یا کچی کے حساب سے لیے جاتے ہیں پڑوپی بڑا برتن اور کچی چھوٹا برتن ہوتا ہے ۔۔۔ یہ پھل عموما شہروں تک نہیں پہنچتا البتہ تھل کے قریبی شہروں میں ایک آدھ دن کے لیے دستیاب ہوتا ہے۔
پیلو کی مسواک بلغم خارج کرتا ہے۔ مسام کھولتا اورریاح غلیظ کو دفع کرتا ہے۔ اس کی جڑ کی مسواک دانتوں کو صاف اور مضبوط رکھتی ہے۔ اسکی چھال کا جو شاندہ بطور مقوی ومحرک اور خرابی حیض میں پلاتے ہیں۔
کیکر ایک درخت ہے جو پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ یہ بھارت میں بھی موجود ہے۔ اسے ببول اور مغیلاں بھی کہتے ہیں
ریگزاریا سنگستان یا بیابان میں پیدا ہونے والا ایک کانٹے دار درخت۔ عام طور سے تقریباً 42 ہاتھ تک بلند ہوتا ہے۔ اس کے تنے کا قطر چار پانچ قدم ہوتا ہے۔ پتے باریک، کانٹے سخت اور لمبے، پھول زرد خوشبودار ہوتے ہیں۔ تنے کی چھال پتلی، صاف، سبزی مائل ہوتی ہے۔ اس کی چھال سے چمڑے کی دباغت کی جاتی ہے۔ اس سے پان میں کھایا جانے والا کتھا بھی بنایا جاتا ہے۔ اس کا گوند طب مشرق میں بطور دوا مستعمل ہے۔
ماہرین نباتیات کے مطابق یہ Fabaceae خاندان سے تعلق رکھنے والے درخت یا جھاڑیاں ہیں۔ یہ درخت چھال دار ہوتے ہیں اور جب یہ چھال اُتاری جاتی ہے تو اس سے رس دار کیمائی مادّہ نکلتا ہے۔ اس درخت کی ایک تاریخ ہے اور انکی زیادہ تر انواع دوا سازی اور مختلف اشیاء کو محفوظ رکھنے میں استعمال ہوتی ہیں۔
کیکر کے پتوں،چھال ٗ پھلی اور گوند سبھی میں طبی افادیت پائی جاتی ھے، پتے اور چھال رطوبتوں کو خشک کرنے اور رستے ہوئے خون کو روکنے میں مفید ھے، پھلی سانس کی نالیوں سے بلغی مواد اور ریشہ خارج کرنے میں معاون ھےگوند جلد کی حدت اور سوزش دور کرنے میں سود مند ھے کیکر کی گوند کا لعاب دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر سینے کے امراض میں مفید ہے۔
سرس ایک موسمی اور بڑا درخت ہے جس کی چھال، پتے اور بیج بطور دواء کے استعمال ہوتے ہیں۔سرس ایشیا اور اوقیانوسں کے طبی پودوں میں شمار کیا جاتا ہے۔سرس کو عربی میں سلطان الاشجار، فارسی میں درخت زکریا، پنجابی میں شرینہہ، مرہٹی میں شرس، گجراتی میں شرسٹرو، بنگالی میں شریس گاچھ سرز، سندھی میں سرنہن، انگریزی میں Albizia lebbeck اور لاطینی میں Acacia Speciosa کہتے ہیں۔
طب میں یہ پودا کثیر الفائدہ ہے۔ اِس کے بیج، چھال اور پتے بھی بطور دواء استعمال ہوتے ہیں۔ سرس کی پہچان یہ ہے کہ اِس کے پتے سبز رنگ کے ہوتے ہیں اور بیج بھورے سرخی مائل ہوتے ہیں۔ ذائقہ اِس کا تلخ ہوتا ہے اور طبی مزاج اِس کا درجۂ دؤم میں سرد اور خشک ہے۔ اِس کے پتے املی کے پتوں سے مشابہت رکھتے ہیں ۔
شیشم۔ پاکستان اور دنیا کے کئی ملکوں میں پایا جانے والا ایک عام درخت ہے۔ اسے ٹالی یا ٹاہلی بھی کہتے ہیں۔ یہ میدانی علاقوں سے لے کر 1500 میٹر کی بلندی تک پایا جاتا ہے۔ یہ درخت 10 سے لے کر 30 میٹر تک بلند ہوتا ہے اور اس کے تنے کا گھیراؤ 2 سے 4 میٹر تک ہو سکتا ہے۔
نومبر دسمبر میں اس کے پتے گر جاتے ہیں اور جنوری فروری میں نئے آتے ہیں۔ پتے شروع میں ہلکے سبز ہوتے ہیں جو بعد میں گہرے سبز ہو جاتے ہیں۔ مارچ اپریل میں اس پر پھول آتے ہیں۔
شیشم کی لکڑی مضبوط پائیدار اور لچک دار ہوتی ہے۔ اس لیے یہ فرنیچر، عمارتی سامان اور بے شمار دوسری چیزوں کے بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box