مغل بادشاہوں کے مقابر


 مغل بادشاہوں کے مقابر ۔۔

بابر کا مقبرہ کابل میں ہے۔ظہیر الدین بابر کا مقبرہ کابل شہر کے وسط میں ایک پہاڑی علاقے کے قریب واقع ہے۔ ... یہ چھوٹا سا مقبرہ مغل شنہنشاہ جہانگیر نے اپنے پر دادا کے وفات کے پچھتر 75سال بعد تعمیر کروایا تھا۔

ہمایوں کا مقبرہ دہلی میں ہے۔ہمایون کا مقبرہ بھارت کے شہر دہلی میں واقع مغل بادشاہ نصیر الدین محمد ہمایوں کا مقبرہ ہے جو اس کی بیوی حمیدہ بانو بیگم نے 1562ء میں بنوایا۔ یہ مقبرہ لال پتھر سے بنا ہوا ہے۔ اس کے احاطے میں دوسری شخصیات کے بھی مقبرے موجود ہیں۔

اکبر کا مقبرہ فتح پور سیکری میں  آگرہ کے علاقہ اسکندرہ میں واقع مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا مقبرہ جو 1604ء سے 1613ء کے وسطی عرصے میں تعمیر ہوا

جہانگیر کا مقبرہ لاہور میں ہے۔  یہ دریائے راوی لاہور کے دوسرے کنارے شاہدرہ کے ایک باغ دلکشا میں واقع ہے۔ جہانگیر کی بیوہ ملکہ نور جہاں نے اس عمارت کا آغاز کیا اور شاہ جہاں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ یہ مقبرہ پاکستان میں مغلوں کی سب سے حسین یادگار مانا جاتاہے۔

مقبرہ کے چاروں کونوں پر حسین مینار نصب ہیں۔ قبر کا تعویذ سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، لاجورد، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گل کاری کی گئی ہے۔ دائیں بائیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام کندہ ہیں۔

  شاہ جہاں کا مقبرہ آگرہ میں ہے۔ شاہ جہاں کی تعمیرات سے دِلچسپی اور اُس کے عہد میں تعمیر ہونے والے تعمیری شاہکار آج بھی قائم ہیں۔ ... اُسے مغلیہ سلطنت کا عظیم ترین معمار شہنشاہ یا انجنئیر شہنشاہ بھی کہا جاتا ہے۔ شاہ جہاں کی وجہ شہرت تاج محل اور ممتاز محل سے اُس کی محبت کی داستانیں ہیں۔

اورنگ زیب کا مقبرہ خلدآباد میں   سے قریب ایک مقام ہے جس کا نام اورنگ آباد ہے، اورنگ آباد میں اورنگ زیب کی مختلف یادگاریں آج بھی محفوظ ہیں۔ بڑا متقی، پرہیز گار ،مدبر اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا۔ خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے ایک پائی بھی نہ لی۔ قرآن مجید لکھ کر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتا تھا۔

  جهاندار شاہ کا مقبرہ دہلی میں ہے۔جہاندار شاہ یا مرزا معزالدین بیگ محمد خان (پیدائش: 10 مئی 1661ء– وفات: 12 فروری 1713ء) مغلیہ سلطنت کا آٹھواں مغل شہنشاہ تھا جس نے 1712ء سے 1713ء کے درمیان گیارہ مہینے حکومت کی۔

رفیع الحق درجات کا مقبرہ دہلی میں ہے ۔گیارہواں مغل شہنشاہ جس نے 28 فروری 1719ء سے 6 جون 1719ء تک حکومت کی۔

شاہ جہاں دوئم کا مقبرہ دہلی میں ہے۔مغل شہنشاہ جس نے 6 جون 1719ء سے 19 ستمبر 1719ء تک حکومت کی۔

 محمد شاہ کا مقبرہ دہلی میں ہے۔محمد شاہ، المعروف محمد شاہ رنگیلا، روشن اختر، نصیر الدین شاہ، مغلیہ سلطنت کا چودھواں بادشاہ (پیدائش: 17 اگست 1702ء— وفات: 26 اپریل 1748ء)۔ محمد شاہ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد قیادت اور سیاسی ابتری کے بحران میں طویل المدت بادشاہ گزرا ہے۔ 

  عالمگیر دوئم کا مقبرہ دہلی میں ہے۔عالمگیر ثانی ( مکمل نام عزیز الدین عالمگیر ثانی 3 جون، 1754ء سے 29 نومبر، 1759ء مغلیہ سلطنت کا شہنشاہ تھا۔

 شاہ جہاں سوم کا مقبرہ دہلی میں ہے۔ شہنشاہ جس نے 10 دسمبر 1759ء سے 10 اکتوبر 1760ء تک حکومت کی۔

  شاہ عالم دوئم کا مقبرہ دہلی میں ہے۔شاہ عالم کا مقبرہ روضہ کے مشرقی سرے کے وسط میں واقع ہے۔ مقبرہ ایک مربع منصوبے پر ہے جس کے ساتھ چھتوں کے بیچ میں 12 ستون اور اونچا گنبد ہے ، جس کے چاروں طرف 24 چھوٹے گنبد ہیں۔ اس کے چاروں طرف محراب نما دروازہ ہے۔ مغرب کا مرکزی دروازہ جو دیوار سے چھوٹا گنبد پروجیکٹس رکھتا ہے۔

  اکبر دوئم کا مقبرہ دہلی میں ہے۔مرحوم بادشاہ کودرگاہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ساتھ مہراؤلی (دہلی )میں دفن کیا گیا مزار سنگ مرمر کا بنا ہواہے جہاں مغل بادشاہ بہادر شاہ اول اور شاہ عالم ثانی بھی مدفون ہیں۔

  بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ رنگون میں ایک پرسکون علاقے میں واقع بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ ہندوستانی تاریخ کے ایک جذباتی اور متلاطم دور کی یاد دلاتا ہے۔ رنگون کے باسیوں کو یہ تو معلوم تھا کہ آخری مغل شہنشاہ ان کے شہر میں واقع چھاؤنی کے اندر کہیں نہ کہیں دفن ہیں، لیکن درست جگہ کا کسی کا علم نہیں تھا۔ ... بہادر شاہ ظفر کی قبر گلاب کی پتیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی