اردو زبان پر مشتمل ادب اردو ادب کہلاتا ہے جو نثر اور شاعری پرمشتمل ہے۔ نثری اصناف میں ناول، افسانہ، داستان، انشائیہ، مکتوب نگاری اور سفر نامہ شامل ہیں۔ جب کہ شاعری میں غزل، رباعی، نظم، مرثیہ، قصیدہ اور مثنوی ہیں۔ اردو ادب میں نثری ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ شعری ادب، لیکن غزل اور نظم سے ہی اردو ادب کی شان بڑھی ایسا سمجھا جاتا ہے۔ اردو ادب پاکستان میں مقبول ہے، بھارت میں مشہور ہے۔اُردو جو کہ آج برصغیر پاک و ہند کے علاقے میں بولی جانے والی زبان ہے۔اُردو کی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اُردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی۔جسے اردو کہتے ہیں۔
اُردو زبان کو پروان چڑھانے میں سب سے بڑا ہاتھ اگر ادیبوں اور شاعروں کا کہا جائے تو یہ بات غلط نہ ہوگی۔ گذشتہ دو سو سے تین سو سال میں جب سے شعراءاور ادیبوں نے اردو زبان کو اپنا اظہار خیال بنایا تو یہی بنیادی وجہ تھی جو آج اردو کو دنیا میں بولی جانے والی زبانوں میں ایک اہم مقام دلاتی ہے۔اردو ادب کی معلومات درج ذیل ہیں۔
اردو کا لفظی مطلب ۔ لشکر
اردو ترکی زبان کا لفظ ہے
ریختہ کا مطلب ۔ ایجاد کرنا
ریختی شاعری ۔ زنانہ شاعری
مغل دور کی سرکاری زبان ۔ فارسی
اردو کی ترویج، انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج قائم کیا
اردو نثر کا آغاز ۔ فورٹ ولیم کالج
اردو دفتری زبان بنی۔ 1832پہلے مشہور شاعر ۔ امیر خسرو
پہلے صاحب دیوان شاعر ۔ محمد قلی قطب شاہ
پہلے صوفی شاعر ۔ میر درد
پہلے ناول نگار ۔ ڈپٹی نذیر احمد (مراۃ العروس)
پہلے افسانہ نگار ۔ پریم چند
پہلے نثر نگار ۔ ملا وجہی (سب رس)
قصیدے کی ابتداء ۔ محمد رفیع سودا
پہلے مضمون نگار ۔ سید احمد خان
سفرنامہ کا آغاز ۔ یوسف کمبل پوش
خطوط نگاری کا آغاز ۔ مرزا غالب۔
آب گم کس۔ مشتاق احمد یوسفی
نیرنگ خیال۔ محمد حسین آزاد
آب حیات ۔ محمد حسین آزاد
کپاس کا پھول ۔ احمد ندیم قاسمی
قرآن مجید کا پہلا اردو ترجمہ ۔ شاہ رفیع الدین 1786
قرآن مجید کا پہلا بامحارہ اردو ترجمہ ۔ شاہ عبدالقادر
نظم ساقی نامہ ۔ علامہ اقبال سراوادی سینا۔ فیض احمد فیض
دست صبا ۔ فیض
نقش فریادی۔ فیض
غبار ایام۔ فیض
دست تہہ سنگ ۔ فیض
فسانہ عجائب ۔ رجب علی بیگ
ماہ تمام ۔ پروین شاکر
صدر برگ ۔ پروین شاکر
روزنامہ جنگ کے بانی۔ میر خلیل الرحمٰن
رباعی ۔ چار مصرعے
مخمس ۔ جس نظم کے تمام بندھ پانچ مصرعوں پر مشتعمل ہوں
مسدس ۔ نظم جس کا ہر بندھ چھ مصرعوں پر مشتعمل ہوتا ہے
دوہا۔ دو مصرعوں کی نظم
غزل عربی زبان کا لفظ ۔ عورتوں کی باتیں
نثر کے معن۔ بکھرا ہوا
علامہ اقبال کی آخری نظم۔ حضرت انسان
۔ بازار حسن۔ پریم چند
آنگن ۔ خدیجہ مستور
اداس نسلیں ۔ عبداللہ حسین
راجہ گدھ ۔ بانو قدسیہ
میر انیس ۔ مرثیہ نگاری
شہر آشوب ۔ ظفر علی خان
تلمیح ۔ تاریخی اشارہ
ڈرامہ، اندھیرا اجالہ۔ یونس جاوید
آرام و سکون ۔ امتیاز علی تاج
ترقی پسند تحریک ۔ 1936
ترقی پسند تحریک کی بنیاد ۔ مارکس ازم
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box