لتا منگیشکر
لتا منگیشکر کو جنوری میں کورونا وائرس اور نمونیا کی تشخیص پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔گزشتہ ماہ کورونا کی تشخیص کے بعد سے لتا منگیشکر آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ لتا منگیشکر کی طبیعت بگڑنے کے باعث انہیں دوسری مرتبہ آئی سی یو منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لتا منگیشکرکے متعدد اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ کئی ہفتوں سے وینٹی لیٹر پر تھیں۔
آج بھی دل تک اتر جانے والی ان کی آواز کی کھنک وہی ہے جو انیس سو سینتالیس میں ان کی پہلی ہندی فلم آپ کی سیوا میں تھی۔ لتا نے انیس سو بیالیس میں اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر کے انتقال کے بعد باقاعدہ گلوکاری شروع کردی تھی۔ دینا ناتھ کی بیٹیوں میں لتا نے سروں کی دنیا میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔لتا منگیشکر پچاس ہزار سے زائد گانے گا چکی ہیں وہ 1974ء سے 1991ء تک گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ریکارڈ ہولڈر کے طور پر شامل رہیں۔ گننزبک کے مطابق وہ دنیا میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرانے والی گلوکارہ ہیں۔ لتا کی منزل تو گانے اور موسیقی ہی تھے۔ بچپن ہی سے سنگیت کا شوق تھا اور موسیقی میں ان کی دلچسپی تھی۔ لتا کو بھی سنیما کی دنیا میں کیریئر کے ابتدائی دنوں میں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ ان کی پتلی آواز کی وجہ سے آغاز میں موسیقار فلموں میں ان کو گانے سے سے منع کر دیتے تھے۔ لیکن اپنی لگن کے زور پر اگرچہ آہستہ آہستہ انہیں کام اور شناخت دونوں ملنے لگے۔ء میں منظر عام پر آنے والی فلم ’’ آپ کی سیوا میں ‘‘ میں گائے گئے گیت سے لتا کو پہلی بار بڑی کامیابی ملی اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ كر نہیں دیکھا۔ 1949ء میں گیت ’’ آئے گا آنے والا ‘‘، 1960ء میں ’’ او سجنا برکھا بہار آئی ‘‘، 1958ء میں ’’ آجا رے پردیسی ‘‘، 1961ء میں ’’ اتنا نہ تو مجھ سے محبت بڑھا ‘‘، ’’ اللہ تیرو نام ‘‘، ’’ احسان تیرا ہوگا مجھ پر‘‘ اور 1965ء میں ’’یہ سماں، سماں ہے یہ پیار کا ‘‘ جیسے گیتوں کے ساتھ ان کے پرستار اور ان کی آواز کے چاہنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی گئی۔ لتا جی کے والد دیناناتھ منگیشکر مشہور موسیقار تھے۔ خاندان میں سبھی بہنیں اور بھائی موسیقی کی تعلیم لیتے تھے۔
سبھی جانتے ہیں کہ لتا منگیشکر باصلاحیت گلوکارہ آشا بھوسلے کی بہن ہیں۔ آشا کے علاوہ لتا منگیشکر کی دو اور بہنیں ہیں جن کے نام اوشا منگیشکر اور مینا منگیشکر ہیں۔ وہ بھی ایک گلوکارہ ہیں جو آشا اور لتا کی طرح مشہور نہیں ہیں، لیکن انہوں نے بہت سے ہندوستانی گانے گائے ہیں۔ لتا جی کا ایک بھائی بھی ہے، جن کا نام ریدہے ناتھ منگیشکر ہے۔ وہ بھی موسیقی کی دنیا سے ہی وابستہ ہیں۔
لتا معروف پاکستانی گلوکارمہدی حسن کی بہت بڑی مداح تھیں، ان کے بارے میں کہتی تھی کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں سے بھی خوب انسیت رکھتی تھیں۔
بھارت رتن2001ء، پدم وبھوشن 1999ء،دادا صاحب پھالکے ایوارڈ 1989ء، مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ 1997ء،این ٹی آر نیشنل ایوارڈ 1999ءاور فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ۔
لتا کو بے شمار ایوارڈز ملے، خود ان کا کہنا تھا کہ ان کا سب سے بڑا ایوارڈ لوگوں کا پیار ہے لیکن ان کے پاس بھارت کا سب سے بڑا سویلین اعزاز ’بھارت رتنا ‘بھی ہے۔ وہ بھارت کی دوسری گلوکارہ ہیں جنہیں یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ 1974ء میں گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ان کا نام درج ہوا۔ لتا منگیشکر کا انتقال موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ لتا جی نے عشروں تک سُر کی دنیا پر حکومت کی اور ان کی آواز کا جادو رہتی دنیا تک رہے گا.۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box