مچھلیاں فقاری آبی جانور ہیں، جنہیں سرد خون والا جانور بھی کہا جاتا ہے۔ چھلکوں سے دھکا ہوا اور پانی میں تیرنے کے لیے بنے خصوصی پر اور گلپھڑے سے لیس۔ مچھلیاں کھلے سمندر، تازے پانی، دریاؤں،جھیلوں سے لے کر پہاڑی جھرنوں سمندر کی اتھاہ گہرائیوں تک میں پائی جاتی ہے۔
سردیوں میں مچھلی کھانے کے بے شمار فائدے ہیں اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جیسے ہی سردیاں شروع ہوتی ہیں لوگ مچھلی کو گھر میں لا کر مختلف طریقوں سے پکا کر سردیوں میں مچھلی کھانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہیں۔ سردیوں میں مچھلی کو کھانا موسم سرما کی آمد کی نشاندہی کرتا ہے۔مچھلی آخر کس کو پسند نہیں ہوتی یہ ذائقے میں ہوتی ہی اتنی لذیذ ہے کہ بچہ بڑا یا بوڑھا ہر کوئی اسے شوق سے کھاتا ہے۔غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو ہفتہ میں دو مرتبہ 200 گرام تک مچھلی ضرور کھانی چاہیے۔
موسم سرما میں مچھلی کو کھانے سے نہ صرف جسم کو حرارت ملتی ہے بلکہ اسکے بے حد قدرتی غذائی اجزا جسم کو بے تحاشا بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی فراہم کرتے ہیں۔مچھلی میں آئرن، زنک، میگنیشیم، کیلشیم، نیاسین، سیلینیم اور وٹامن اے 12 اور ڈی جیسے معدنیات ہوتی ہیں ۔ اور وٹامن بی 2 شامل ہیں، وٹامن بی 2 کو ریبوفلاوین بھی کہا جاتا ہے۔ مچھلی میں فاسفورس اور کیلشیم بھی پائے جاتے ہیں۔
سردیوں میں کئی قسم کی مچھلیاں کھائی جاتی ہیں۔ جن سے ہمیں لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مچھلی کی چند مشہور اقسام درج زیل ہیں۔سردیوں میں کھائے جانے والی مختلف مچھلی کی اقسام
رہو مچھلی ،بام مچھلی، ٹراؤٹ مچھلی ،سنگھاڑا مچھلی ،گلفام مچھلی ،تھیلہ مچھلی ،سلور مچھلی ،مشاہیر مچھلی،سوہل مچھلی،موہری مچھلی،کھگہ اور ملی مچھلی ہیں۔
مچھلی کی افادیت اور جسم میں وٹامن ڈی کی کمی
ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی جسم کو وٹامن ڈی کی بہت ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سردیوں میں دھوپ کم نکلنے کی وجہ سے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو جاتی ہے۔ لیکن انسانی جسم مچھلی سے کہیں زیادہ وٹامن ڈی کو جذب کرتا ہے جس میں وٹامن ڈی کے ساتھ اومیگا تھری اور فیٹی ایسڈ بھی زیادہ ہوتے ہیں اور جو قلبی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
مچھلی کا استعمال دل کی حفاظت کرتا ہے۔
مچھلی کا استعمال وٹامن ڈی کی کمی دور کرتا ہے۔
مچھلی کا استعمال آپ کے پھیپھڑوں کی حفاظت کرتا ہے۔
مچھلی کا استعمال آپ کی جلد کو فایدہ دیتا ہے۔
مچھلی کا استعمال بچوں میں دمہ کی بیماری کو کم کرتا ہے۔
مچھلی میں وافر مقدار میں پائے جانے والے فیٹی ایسڈپھیپھڑوں میں ہوا کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں۔
فیٹی ایسڈ ڈپریشن کی علامات میں کمی لانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مچھلی کا باقاعدہ استعمال اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کی تاثیر میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
فیٹی ایسڈ دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بہت کردار ادا کرتا ہے۔ کچھ طبی تحقیقات کے مطابق ایک ہفتے تک باقاعدگی کے ساتھ مچھلی استعمال کرنے سے دل کی بیماریوں کے خطرات پندرہ فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔
فیٹی ایسڈ آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جس کی وجہ سے نظر کی کمزوری لاحق نہیں ہوتی۔
مچھلی کے تیل کے باقاعدہ استعمال سے بچوں میں ذیابیطس ٹائپ ون کے خطرات میں واضح کمی واقع ہوتی ہے۔
نیند کے مختلف مسائل جیسا کہ نیند نہ آنا دنیا بھر میں عام ہو گئے ہیں۔ ان مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے مچھلی کا باقاعدہ استعمال مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جو لوگ زیادہ مچھلی کھاتے ہیں ان کی دماغی صلاحیت زیادہ تیزی سے کم نہیں ہوتی۔
مچھلی کے تیل کی مدد سے کیل مہاسوں سے آسانی کے ساتھ چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
مچھلی میں پائے جانے والے اومیگا-3 فیٹی ایسڈ کی وجہ سے جسم میں موجود نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مچھلی کینسر کے خطرات بھی کم کرتی ہے۔ ایسے افراد کو باقاعدگی کے ساتھ مچھلی کو استعمال کرتے ہیں، ان میں آنت، لبلبے، اور منہ وغیرہ کے کینسر کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box