جذبہ : اردو میں عربی سے ماخوذ لفظ ہے جس کے معنی کشش، کھنچاؤ کے ہیں۔جذبات جمع ہے جذبہ کی اور جذبہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بیرونی عوامل انسانی شعور کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں اس کو ہم ایک مثال سے واضح کر دیتے ہیں مثلاً عشق ایک جذبہ ہے یہ اس وقت تک اپنا صحیح اثر نہں دکھا سکتا جب تک کہ یہ انسانی شعور کو اپنے اندر جذب نہ کرلے، جذبات کسی قاعدے اور قانون کے پابند نہیں ہوتے۔
جذبات اس وقت پیدا ہو کر موثر ہو جاتے ہیں جب انسان کے اندرونی اور بیرونی عوامل ، واقعات ،کیفیات یا حادثات کی شکل میں انسانی شعور کو اپنی طرف کھینچتے ہیں جس سے انسانی شعور اپنا عمل چھوڑ کر ان بیرونی عوامل کے اثرات میں آ جاتا ہے۔جذبہ بنیادی طور پر انسان کے اندر ایک زبردست لہر اٹھنے کا نام ہے یہ کسی بھی وقت، کسی بھی سوچ کے تحت جاگ اٹھتا ہے یا جاگ سکتا ہے۔دوسری طرف جذبات کا تعلق انسانی دل سے منسلک کیاجاتا ہے لیکن میڈیکل سائنس اور ماہر نفسیات، جذبات کو دماغ کی سرگرمی سے جوڑتے ہیں۔کیونکہ انسانی دماغ مختلف حصوں کا مرکب ہے، جو مختلف حالات اور منظر میں مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔
سائنسدان جذبات اور انسانی فہم و شعور کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کی خالص سائنسی تحقیق جہاں انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے متعلق مفید معلومات بہم پہنچاتی اور مختلف بیرونی عوامل کی صورت میں مخصوص عمومی ردعمل کی عکاسی کرتی ہے ۔
نفسیات میں جذبات - یہ سائنسدانوں کے درمیان بڑی دلچسپی، کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی وجہ سے جو مرکزی موضوعات میں سے ایک ہے. اس رجحان کو مستقل طور پر ایک شخص کے ہمراہ ہے. ہم صبح اٹھا جیسے ہی کے طور پر، فوری طور پر ہم بعض احساسات، مظاہر کی ایک قسم پر انحصار مختلف ہو سکتے ہیں جس محسوس کرتے ہیں. سادہ اور عام لگتا ہے، حقیقت میں، یہ کئی صدیوں کے لئے کیا گیا ہے جس میں ماہرین کی طرف سے مطالعہ کیا جا رہا ہے ایک پیچیدہ نظام ہے.
مختلف واقعات یا مظاہر کے ردعمل کی ایک قسم ہے. انسانی زندگی ان کے بغیر ناممکن ہے. اور یہ ایک معمول بن جاتا ہے یہاں تک کہ اگر، کسی بھی اشد تجربات کے بغیر، اس کے بعد لوگوں نے ایک سنسنی کے لئے تلاش کر موسیقی سننا فلمیں دیکھ یا کھیلوں کے کھیل، تخلیق شروع ہو جائے گا. خاص طور پر دلچسپ حقیقت ایک مکمل وجود کے لئے شخص کے ساتھ غصہ، تکلیف یا مصیبت وابستہ نہ صرف مثبت بلکہ منفی احساسات کی ضرورت ہے.
انسانی حواس تمام حالات میں ایک ہی نہیں ہو سکتا ہے۔ بلکہ دوسروں کیلئے بھی بہت کچھ کرنا ہے تب اس کی خواہشات اور امیدوں میں کچھ ذمہ داریاں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ اور ایسے موقع پر اپنی شخصیت کو قابل قدر اور قابل قبول بنانا بھی ایک اہم ضرورت ہے۔ ایسا کرتے ہوئے جہاں چند نادانستہ اور فطری اور ذہنی عوامی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے شکر نصف ایمان کہا ہے۔ یہ اتنا بڑا نفسیاتی گر ہے اگر انسان اس کو سمجھے تو کبھی جذباتی اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہی نہ ہو۔ ذرا تصور کریں ہم پر اللہ تعالیٰ کے کتنے انعامات ہیں۔زندگی میں نظر آنے والی نعمتیں ہی اتنی ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور نظر نہ آنے والی نعمتوں کا کبھی ہم نے تصور ہی نہیں کیا حالانکہ ہم ان بے حساب نعمتوں سے زندگی بھر لطف اندوز ہوتے ہیں۔جب ہم ان نعمتوں کا تصور کرتے ہیں اور اپنے دل میں ان نعمتوں کو سوچتے ہیں تو اللہ کا دل سے احسان مند ہو جاتے ہیں اور شکر گذار بندہ بن جاتے ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box