غضب یعنی غصہ نفس کے اس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دفع کرنے پر ابھارے ۔ غصہ اچھا بھی ہے اور برا بھی۔غصہ، غیظ یا غضب ایک شدید جذبہ ہے۔ اس میں ایک سخت اضطراب آمیز اور غیر دوستانہ رد عمل شامل ہوتا ہے جو کسی شخص کی جانب سے محسوس کردہ اشتعال انگیزی، جذباتی مجروحیت یا دھمکی پر مرکوز ہوتا ہے۔
غصہ ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر انسان میں فطرتاً پایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی جذباتی کیفیت یا حالت کا نام ہے جس کی شدت بدلتی رہتی ہے۔ یعنی انسان کو مختلف حالات اور اوقات میں غصہ بھی مختلف نوعیت کا آتا ہے۔ اکثر شدید غصے کے باعث لوگوں کو بھیانک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں اپنے مومن و مخلص بندوں کی متعدد صفات بیان کی ہیں وہیں انکی یہ صفت بھی بیان کی ہے۔سورہ آل عمران : 134 میں ہے
” غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے”
اس لیے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا ۔
(صحیح مسلم کتاب البر ، باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب ، رقم الحدیث : 6614)
” پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑودے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم (ﷺ) سےعرض کی: مجھے وصیت (نصیحت) کیجیے فرمایا: غصہ نہ کیا کرو-اس نے یہ سوال بار بار دہرایا حضور نبی کریم(ﷺ) نے یہی فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جیسے ایلواء شہد کو خراب کر دیتا ہے، اسی طرح غصہ ایمان کو ، ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص غصہ کرتا ہے وہ جہنم کے قریب ہو جاتا ہے ، (احیاء العلوم : ۳ ؍ ۱۶۵)
آئیے !!! اب غصہ کی حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں۔ اثرات پڑتے ہیں۔ ناراض موضوع پریشان ہے اور اسے مشتعل سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف ، آپ کو اپنے بلڈ پریشر اور دل کی شرح میں اضافے کا امکان ہے ۔ غصہ اکثر اس شخص کی طرف زبانی یا جسمانی جارحیت کی عکاسی کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ ہوتا ہے۔
غضب یعنی غُصہ نفس کے اُس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ یا اسے دفع دور کرنے پر اُبھارے۔غصے کی حالت میں فوری طور پر کسی بھی قسم کا ردعمل عام طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، خود کو پرسکون کرنے کے لیے مختلف ذہنی، جذباتی یا عملی تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں۔بہر حال غصہ کی جو بھی وجوہات ہوں اس ماحول کے مطابق وہ شخص اپنے غصے کے اظہار کے لیے مناسب طریقہ کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر شخص کا ماحول کی نوعیت کے مطابق غصے کے اظہار کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔
غصہ کے وقت لوگ ان تین حالتوں کا سامنا کرتے ہیں: یا تو اظہار کریں گے، یا اسے دباتے ہیں اور یا پھر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر آپ غصہ پر قابو پانا چاہتے ہیں تو اپنے اندر تواضع وانکساری پیدا کریں اور دوسروں کو اپنے سے بہتر تصور کیا کریں۔ اور جب غصہ آئے تو ہیئت بدل دیں، یعنی: کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، پانی پی لیں اور جس پر غصہ آرہا ہے، اس کے سامنے سے ہٹ جائیں اور زبان پر تعوذ کا ورد شروع کردیں، ان شاء اللہ اس طرح آپ آہستہ آہستہ غصہ پر قابو پاجائیں گے ۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box