سگو شمالی اور ہمسگو شمالی اور ہمارا مقام عزت و وقار
ہمارے بزرگ پیر فتح محمد قریشی جو کہ پیر مولوی جان محمد صاحب میبل شریف کے پیر بھائی تھے۔ان کے آپس میں گہرے تعلقات تھے ۔ ان میں انس و محبت بہت زیادہ تھا۔ پیر صاحب مولوی جان محمد نے میبل شریف میں ان کی شادی کروا دی تھی۔پیر صاحب کے کہنے پر آپ اپنے وطن مالوف فاروقہ کو چھوڑ کر سگو شمالی تشریف لے گئے۔آپ کو پیر صاحب موسیٰ زی شریف سے خلافت کا منصب ملا ہوا تھا،اور تب سے خلافت ہمارے خاندان میں چلی آرہی ہے۔
اس کے علاؤہ پیر سیال شریف اور ہمارا حسب نسب ایک ہی ہے۔میں قریشی، ہاشمی، علوی ہوں۔
سگو شمالی میں 1892ء میں آپ نے مسجد کی امامت کا اعلیٰ
منصب قبول کر کے دین کی خدمت کا کام شروع کیا۔قرآن پاک کی تعلیم شروع کی۔اس کے علاؤہ مختلف مرضوں کے روحانی علاج کرتے رہے۔اس کے علاؤہ طبابت بھی کرتے رہے۔وہ درویش اور فقیر منش انسان تھے۔ جس سے علاقہ بھر کے لوگ مستفید ہوتے رہے۔ان کا انتقال 1929ءہوا۔
میرے دادا محترم حکیم غلام نبی (1902ء تا1956ء) سگو شمالی کی مسجد کے امام اور خطیب رہے۔اس کے علاؤہ حکمت کے شعبہ کے ماہر حکیم تھے۔اس وقت وہ کلور کوٹ اور مضافات میں واحد قابل حکیم تھے۔جن کا اس وقت حکمت کے میدان میں طوطی بولتا تھا۔اپنے وقت کے مایہ ناز حکیم محمد ادریس خان صاحب اور حکیم عبد الحمید خان صاحب میرے دادا اور والد کی حکمت کے شعبہ خدمات کے معترف تھے ۔اس کے علاؤہ سگو شمالی میں مڈل کی سطح تک تعلیم کا بندو بست تھا۔اس وقت وہاں کے بڑے بڑے لوگ تعلیم سے بہرہ مند ہوئے۔میرے دادا جان کی وفات کے بعد والد محترم عبد العزیز آصف (1934ءتا 1988ء)نے امامت ، خطابت اور حکمت کے شعبے کو سنبھالا۔1977ء تک اس مسجد میں دینی فرائض انجام دیتے رہے۔والد محترم 1965ء میں گورنمنٹ ہائی سکول میں بحثیت معلم تعینات ہوئے۔تو دونوں فرائض انجام دیتے رہے۔آپ نے بحثیت ٹیچر اپنا نام پیدا کیا۔آج بھی لوگ ان کا نام عزت سے لیتے ہیں،اور ان کی یاد دلوں سے محو نہیں ہوئی،ایک زمانہ ان کی ذہانت اور قابلیت کا معترف ہے۔ان کے شاگرد آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔
میں پرویزآصف قریشی خود بھی ٹیچر ہوں۔میرا بیٹا محمد فرقان آصف قریشی بھی ٹیچر ہے۔میرے خاندان کی تعلیمی خدمات کو ایک زمانہ گذر گیا ہے۔آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔یہ تعلیمی کام اللہ تعالٰی نے ہمارے مقدر میں لکھ دیا ہے۔
آج سگو شمالی گیا تو جامع مسجد سگوشمالی میں حاضری وی۔جو کہ میرے آباؤ اجداد کی حسین یادگار ہے۔ جہاں پر پچاسی سال میرے آباؤ اجداد نے امامت،خطابت کے فرائض انجام دئیے ۔اورقرآن کی تعلیم دی۔پورا علاقہ قرآن کی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم سے سرفراز ہوا،اور دین و دنیا کی بھلائی حاصل کی۔بلاشبہ سگو شمالی کے لوگ آج بھی مقام عزت و احترام دیتے ہیں۔خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔اس قدیم جامع مسجد کے ساتھ میرا تعلق بچپن سے جوانی تک کا ہے۔جب میں اپنے آباؤ اجداد کی اقتداء میں نماز پڑھتا رہا اور قرآن پاک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم حاصل کی۔اس کی تصویر لگانا میری یادوں کا خزانہ ہے۔اس مسجد سے محبت میری زندگی کا سرمایہ ہیں ہے۔
میں سگو شمالی کے لوگوں کا شکر گذار ہوں جو مجھے بحثیت معلم آج بھی احترام دیتے ہیں،اور وہ کیوں نہ دیں۔یہ میرا حق بنتا ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box