مٹر ایک سبزی ہے۔ اس کے پودے کا حیاتیاتی نام Pisum sativum ہے۔ مٹر اسے کے بیج ہوتے ہیں۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ جن کا رنگ عموماً سبز ہوتا ہے۔
مٹر ایک ایسی سبزی ہے جو لذت کے ساتھ ساتھ غذائیت سے بھرپور ہے۔مٹر ایک سستی اور باآسانی دستیاب ہونے والی سبزی ہے لیکن یہ سبزی خور کی زندگی میں پروٹین کی مقدار میں اضافہ کرتی ہے۔ مٹر میں موجود ریشوں سے نظام انہظام میں بہتری آتی ہے۔ مٹر میں ایسا ریشہ موجود ہوتا ہے جو گزرنے والے فضلہ کو آسان اور تیز تر بنا کر قبض میں آسانی پیدا کرتا ہے۔مٹر میں کئی غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں، جوکہ انسانی صحت اور تندرستی کے لیےبے حد ضروری ہیں۔ اس کے اجزا میں فولاد، نشاستہ، پروٹین، وٹامن اے، ایچ، بی، ای اور سی شامل ہیں۔ جدید تحقیقات کے مطابق اس میں پروٹین23فیصد، کاربوہائیڈریٹس50فیصد، جبکہ وٹامن بی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس میں سلفر یعنی گندھک اور فاسفورس بھی دیگر اجزا کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ مٹر میں لگ بھگ تمام وٹامن اور منرل موجود ہیں جو جسم کو درکار ہوتے ہیں اور آدھے کپ سے 11 گرام کاربوہائیڈریٹس 4 گرام فائبر 4 گرام پروٹین وٹامن اے کی روزانہ درکار 34 فیصد مقدار وٹامن کی روزانہ درکار 24 فیصد مقدار وٹامن سی کی روزانہ درکار 13 فیصد مقدار فولیٹ کی روزانہ درکار 12 فیصد مقدار تھایامین کی روزانہ درکار 15 فیصد مقدار میگنیز کی روزانہ درکار 11 فیصد مقدار آئرن کی روزانہ درکار 7 فیصد اور فاسفورس کی روزانہ درکار 6 فیصد مقدار حاصل ہوجاتی ہے
سبز مٹر میں چربی بہت کم ہوتی ہے۔ ایک کپ میں 100کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ پروٹین، فائبر اور مائیکرو نیوٹرینٹس بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ مٹر کے ایک کپ میں 10ملی گرام کومیسٹرول پایا جاتا ہے۔مٹر کھانے سے کینسر کے خطرے کو بھی کم کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی اور جسمانی ورم میں کمی لانے کی صلاحیت ہے مٹر میں موجود نباتاتی مرکبات کو کینسر کش اثرات کا حامل سمجھا جاتا ہے اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ مرکبات مختلف اقسام کے کینسر کی روک تھام میں مدد دے سکتے ہیں اور رسولی کی نشوونما روک سکتے ہیں۔کینسر کی ترقی کے امکانات کو کم کر دیتا ہے.
مٹر میں فائبر کی مقدار متاثرکن ہے جو نظام ہاضمہ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے فائبر آنتوں میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی غذا کے طور پر کام کرتا ہے جو نقصان دہ بیکٹریا کو بڑھنے سے روکتا ہےاس سے مختلف امراض جیسے آنتوں کے ورم آئی بی ایس اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم ہوسکتا ہے جبکہ مٹر کھانے سے قبض کی روک تھام بھی ممکن ہوسکتی ہے
دماغ کی تقریب کو بہتر بناتا ہے اور جسم کو توانائی دیتا ہے۔یہ پٹھوں کو برقرار رکھتا ہے اور ذہنی صلاحیتوں کی ترقی پر مثبت اثر پڑتا ہے.جس میں پروسٹیٹ کینسر سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہے نیز ایسے مرکبات ہیں جو ٹیومر کی نشوونما کو روک سکتے ہیں۔ مٹر بلڈ شوگر کی سطح کومستحکم کرنے میں بھی کام کرتے ہیں جو شوگر کے مرض کو قابو میں رکھنےکے لیے انتہائی ضروری ہے۔ شوگر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box