مسواک دانت صاف کرنے کے لیے کیکر، پیلو،نیم،زیتون یا کسی بھی پودے کی ریشہ دار ٹہنی کو کہتے ہیں، یہ عام طور پر انگلی جتنی باریک اور ایک بالشت جتنی لمبی ہوتی ہے۔ اس کا استعمال اسلام میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔مسواک کرنا سنت ہے۔ اس سے دانتوں کی صفائی ہوتی ہے اور خدا تعالی کی رضامندی کا باعث ہے۔ احادیث میں اس کی بیشمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسواک منہ کی صفائی کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہونے کا سبب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بہت تاکید فرماتے اور اہمیت ظاہر کرتے چنانچہ اس کی اہمیت ظاہر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اگر مجھے امت کے مشقت میں پڑ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم کرتا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو بہت دوست رکھتے اس کو کبھی ترک نہ فرماتے جب رات کو نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کرتے جب گھر میں داخل ہوتے تو مسواک کرتے جب وضو کرتے تو مسواک کرتے جب نماز کو کھڑے ہوتے مسواک کرتے پھر وقت وفات حالتِ نزع کے بھی مسواک کی، حدیث میں آیا ہے اگر امت پر گراں نہ ہوتا تو میں مسواک کو اُن پر فرض قرار دیتا جیسا کہ نماز کے لیے وضو فرض ہے۔مسواک کرنا سنّتِ رسول ﷺ ہے کہ اس کے روزانہ استعمال سے نہ صرف دانت صاف ستھرے اور چمک دار رہتے ہیں،بلکہ سانس میں بھی ایک خوش گوار سی مہک پیدا ہوجاتی ہے۔دینِ اسلام جہاں مسلمانوں کوجسمانی و ذہنی پاکیزگی کا حکم دیتا ہے، وہیں اس کی تعلیمات مسلمانوں کے جسم و لباس کی تطہیر کا بھی درس دیتی ہیں۔ اگر اسلام کے طہارت کے طریقوں پر غور کیا جائے، تو اس کا معیار سائنس کے طریقوں سے بھی اعلیٰ وارفع نظر آئے گا۔ جیسا کہ نماز سے پہلے مسواک اور وضو کا حکم دیا گیا۔
حدیث نبویؐ ہے کہ’’حضرت جبرائیلؑ نے مجھے مسواک کرنے کی اس قدر تاکید کی کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ میری اُمّت پر واجب ہوجائے گی۔‘‘حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا،’’مسواک مُنہ کی پاکیزگی کا ذریعہ اور پرور دگار کی خوشنودی ہے۔‘‘مسواک حضرت محمّدﷺکی محبوب سنّتوں میں سے ایک سنّت ہے۔اور یہ وہ عمل ہے، جس میں زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑتی اور خرچ بھی کم ہوتا ہے۔
حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ’’ مسواک سے دماغ تیز ہوتا ہے۔جدید سائنسی تحقیق کے مطابق یہ دانتوں کو کیلشیم، کلورین فراہم کرتی ہے،بھوک بڑھاتی، نظامِ ہاضمہ درست رکھتی ہے۔نیز، مُنہ کی بُو دُور کرنے کے ساتھ مسوڑھوں کو بھی مضبوط کرتی ہے۔اس میں موجود فاسفورس دانتوں کو غذا فراہم کرتا ہے،جب کہ رس جو ذرا سا کڑوا ہوتا ہے، وہ گلے کے امراض سے بچاتا ہے۔مسواک کا مسلسل استعمال دائمی نزلے زکام سے بھی نجات دلاتا ہے، جب کہ باقاعدہ استعمال سے ٹانسلز اور مُنہ کے چھالے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔
1.مسواک نماز کو دو بالا کرتی ہے۔
2.مسواک راہ قرآن کو صاف کرتی ہے۔
3۔مسواک فصاحت میں اضافہ کرتی ہے۔
4۔مسواک معدہ مضبوط کرتی ہے۔
5۔مسواک جلدی بوڑھا نہیں ہونے دیتی۔
6۔مسواک جلدی بال سفید نہیں ہونے دیتی۔
7۔مسواک نظر کو تیز کرتی ہے۔
8۔مسواک منہ کی صفائی کا ذریعہ ہے۔
9۔مسواک شیطان کو پریشان کرتی ہے ۔
10۔مسواک نیکیوں کو بڑھاتی ہے۔
11۔مسواک منہ کی کڑواہت کاٹتی ہے۔
12۔مسواک سر درد سے آرام پہنچاتی ہے۔
13۔مسواک دانت درد سے راحت دلاتی ہے۔
14۔مسواک موت کے وقت کلمہ شہادت یاد دلاتی ہے۔
15۔مسواک پل صراط کو جلدی سے پار کرائے گی۔
مسواک عورت کے لیے بھی سنت ہے ، لیکن اگر مسوڑھے مسواک کے متحمل نہ ہوں اور اس میں تکلیف ہو تو عورت کے لیے دنداسہ مسواک کے قائم مقام ہے اور نیت کے ساتھ دنداسہ سے بھی سنت ادا ہوجائے گی۔
علماء نے کہا ہے فضائل مسواک میں سے ایک یہ فضیلت ہے کہ وہ مرتے وقت یاد شہادت کی دلا دیتی ہے اور روح نکلنے کو آسان کر دیتی ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box