ازواجی زندگی ایک اہم زندگی ہوتی ہے،اس میں زوجین،از خاندان، گھر اور سماج کے تئیں بے شمار ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان تعلقات خوشگوار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، ان کی علیحدگی سے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ایک دوسرے کے شرعی حقوق کا خیال رکھتے ہوۓ، ایک دوسرے کی غلطیوں سے درگذر کرنا اور اس بات کی کوشش کرنا کہ زندگی کی بنیاد محبت پر ہو۔درحقیقت خاندان ایک چھوٹامعاشرہ ہے جودوافراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کانام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کانام ہے جن کا ہدف ایک ہو۔
اسلام میں بیوی کے حقوق: اسلام، شادی شدہ زندگی چاہتا ہے اور اس میں بیوی اور شوہر کے حقوق متعین کرتا ہے۔ ازدواجی تعلق خدائی منصوبہ اور فطری عمل ہے، ازدواجی تعلقات میں اصل پیار اور محبت ہے جو میاں بیوی کے مابین خوشگوار ذہنی حالت اور کیفیت کا باعث ہوتا ہے۔ شوہر کے ذمہ بیوی کے واجبی حقوق میں نان نفقہ، رہنے کے لیے مکان دینا خواہ ذاتی ہو یا کرایے کا، نیز کپڑے وغیرہ دینا اسی طرح شب باشی بھی حقوق میں شامل ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وعاشروہن بالمعروف، شوہروں کو حکم ہے کہ عورتوں کے ساتھ خوبی سے گذران کریں یعنی خوش اخلاقی برتیں نان نفقہ کی خبرگیری کریں، اسی طرح دلجوئی موانست اور معروف طریقے پر معاشرت اختیار کرنا ان کا حق ہے جس طرح عورتوں کی ذمہ داری ہے کہ ہرمباح کام میں شوہر کی اطاعت کرے۔اے لوگوں اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیداکیااوراسی سے جوڑا خلق کیااوران دوسے بہت سارے مرد اورعورتیں پھیلادئیے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃالوداع میں عورتوں کے بارے میں خصوصی تاکید اور وصیت فرمائی، اس کا لحاظ رکھے۔
اگر شوہر کے مالی حالات ناگفتہ بہ ہوں تو بیوی کا فرض ہے کہ اس ساتھ تعاون کرے اور ٹھاٹھ باٹھ کی بجائے سادہ زندگی پر اکتفاء کرے۔
بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اس کے حقوق کو ادا کرنا اور اس کی جائز خواہشات کی رعایت کرنا، شوہر پر ضروری ہے۔ اسلام نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی جابجا تعلیم اور تاکید کی ہے۔
عورت کا نان ونفقہ ہر حالت میں مرد کے ذمہ ہے۔ اگر بیٹی ہے تو باپ کے ذمہ۔ بہن ہے تو بھائی کے ذمہ ، بیوی ہے تو شوہر پر اس کانان و نفقہ واجب کردیا گیا اور اگر ماں ہے تو اس کے اخراجات اس کے بیٹے کے ذمہ ہے
گھر کے خوشگوار ماحول کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دُوسرے کے حقوق ادا کریں، خوش خلقی کا معاملہ کریں، نرمی اور شیریں زبان اختیار کریں اور اگر کوئی ناگوار بات پیش آئے تو اس کو برداشت کر لیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box