سرخاب ایک پرندہ ہے۔سُرخاب کا تعلق قازی النسل پرندوں کے گروہ قازخن سے ہے۔
سرخاب کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین پرندوں میں ہوتا ہے۔ دنیا بھرمیں سرخاب کی مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں۔ جس میں سنہرا سرخاب، عام سرخاب اور پٹے دار سرخاب بہت مشہور ہیں۔
تجھ میں کیا سرخاب کے پر لگے ہیں‘‘ ۔اس کہاوت سے ہر کوئی واقف بھی ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرخاب ملک کا خوبصورت ترین پرندہ مانا جاتا ہے۔
سرخاب، سُرخ رنگ کا ایک آبی پرندہ جس کے نر اور مادہ رات بھر جُدا رہتے اور ایک دوسرے کو پکارتے اور اس کی آواز کے پیچھے جاتے مگر ملاقات س محروم اور مُضطرب رہتے ہیں۔
اس خوبصورت پرندے کی 35 سے زیادہ اقسام ہیں اور تقریبا تمام دنیا میں پایا جاتا ہے۔ نر پرندہ خوبصورت رنگوں سے سجا ہوتا ہے اور ایک بہت خوبصورت دم کا مالک ہوتا ہے۔سلور سُرخاب، سرخ، سنہری، زرد اور ریوز سرخاب سمیت کئي نسل کے اعلیٰ سرخاب اس دنیا میں موجود ہیں۔خوبصورتی کے لئے مشہور اس پرندے کی جسامت کی بات کی جائے تو نر سرخاب لمبائی میں مادہ سے بڑا ہوتا ہے۔ نر 80 سے 100 سینٹی میٹر جب کہ مادہ 74 سے 84 سینٹی میٹر لمبی ہوتی ہے۔ تاہم مختلف اقسام کے سرخاب کی جسامت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ سرخاب کا وزن ایک کلو یا اس سے کم ہوتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرخاب کی تیس سے زائد اقسام ہیں، نیز حباری کو بعض شراح نے سرخاب کے ساتھ بٹیر یا چز یا جرج بھی کہا ہے (اسؤہ حسنہ)، یوں ممکن ہے کہ اس کی تصاویر میں فرق آگیا ہو۔ اور دراج تیتر کو کہتے ہیں، بہرصورت سرخاب کو حباری کہا جائے، یا دراج کہا جائے، یا الحمر (سرخ چڑیا نما ایک پرندہ) کہا جائے جیساکہ بعض لوگوں نے کہا ہے (فاکھۃ البستان) ، یہ حلال ہے، اس لیے کہ یہ پنجوں سے شکار کرنے والا جانور نہیں ہے اور مردار خور بھی نہیں ہے۔واضح رہے کہ سرخاب جسے عربی میں "حبارٰی" کہتے ہیں، اس کا شمار حلال پرندوں میں ہوتا ہے، لہذا اس کا کھانا جائز ہے، اور سنن ابی داؤد کی روایت میں حضور ﷺ سے سرخاب پرندہ کا گوشت کھانا بھی ثابت ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box