ہمارا فرسودہ نظام تعلیم
ہمارا فرسودہ نظام تعلیم
ہمارا فرسودہ نظام تعلیم کب بدلے گا اور کون بدلے گا؟ سائنس پڑھنے کے باوجود سائنسدان کیوں نہیں بنتے؟ اردو ہماری قومی زبان
ہے مگر تلفظ درست نہیں، پرائمری کے بچوں کا ان کی ذہنی صلاحیت سے زیادہ اور وسیع نصاب کس لئے؟ پرائمری کے بچوں
کی اسکول ٹائمنگ سمجھ سے باہر ہے، پرائمری ٹیچرز جو سب سے زیادہ محنت کرواتے ہیں دو، تین کلاسز ایک ساتھ پڑھاتے ہیں
ان کی ساتھ ناانصافی کیوں؟ پرائمری لیول پر قابل لوگ ہیں لیکن کوئی بھی اس پوسٹ پر رہنا نہیں چاہتا وہ آگے کی سوچ رہے ہیں
ایسا کیوں؟ اس ملک میں اساتذہ بچوں سے سوشل کام کیوں کروا نہیں سکتے اور باہر کے ممالک میں اخلاقیات اور سوشل کام پر
زیادہ توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ بچے اس ملک کا نظام بدل سکیں، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ باہر ممالک میں بچے چھٹی کے دن
اپنے محلے کی صفائی کررہے ہوتے ہیں اور ان کو ٹاسک اساتذہ نے دیا ہوتا ہے، ہمارے ملک میں تعلیم اور دی جاتی ہے جب
داخلہ لینا ہو یا جاب ٹیسٹ دینا ہو وہاں دیگر سبجیکٹ کا کیا کام؟ مثال کے طور پر اردو کا ماہر بندہ، ریاضی،سائنس اور انگلش
وغیرہ کے سوالات کیوں حل کرے؟ میڈیا والے بندے کا سائنس اور ریاضی کے سوالات سے کیا لینا دینا وغیرہ وغیرہ! یہ میری
ذاتی رائے ہے آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں! لیکن میرا سوال یہ کہ رٹے والے سسٹم سے ہٹ کر اسکلز والی ایجوکیشن ہو، تاکہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان خود کفیل ہو سکے، اور ہاں جو رٹے نہیں لگا سکتے وہ ناکام سمجھے جاتے ہیں بلکہ معاشرہ ان
کو ناکام کہتا ہے حالانکہ دیکھا جائے تو اس وقت دنیا کے کامیاب لوگ تعلیمی اداروں سے بھاگ گر اپنی اسکلز کو پہچان کر آگے بڑھے ہیں۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box