گگوشت فارسی زبان کا لفظ ہے۔ بکرے کے گوشت کو چھوٹا گوشت اور بیل، گائے یا بھینس وغیرہ کے گوشت کو بڑا گوشت کہتے ہیں۔
گوشت انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہے جس کے استعمال سے بنیادی جز پروٹین سمیت متعدد منرلز بھی حاصل ہوتے ہیں۔
گوشت چھوٹا ہو یا بڑا اپنی افادیت کے اعتبار سے منفرد ہے۔ لیکن کون سا گوشت کتنا فائدہ مند ہے اور یہ جسم کی کون سی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، اس کا جواب صرف حکماءکے پاس ہے۔
گوشت ریڈ میٹ ‘ یعنی چھوٹا گوشت (مٹن، بکرا) اور
بڑا گوشت (گائے، بیف ) کو عام روٹین میں ضرورت کے مطابق کھانا تجویز کیا جاتا ہے۔
اسلام میں ہر جانور کا گوشت حلال نہیں بلکہ چند مخصوص جانور ہی ہیں کہ جن کا گوشت حلال ہے - ان جانوروں میں چرند (گائے، بیل، بھیڑ، بکرا، اونٹ اورہرن وغیرہ) نیز مچھلیوں اور پرندوں کی چند اقسام حلال ہیں۔ مسلمان ان جانوروں میں سے چرند و پرند کو حلا ل طریقے سے ذبح کر کے ان کا گوشت کھاتے ہیں۔
اگر گوشت کسی حلال جانور کا ہو اور ذبح بھی حلال طریقہ سے ہی کیا گیا ہو تو اس کا گوشت حلال ہے، اسے پکائے بغیر اور دھوئے بغیر کھا سکتے ہیں بشرطیکہ اس پر کوئی ناپاکی نہ لگی ہو، ( مثلاً نجاست یا دمِ مسفوح یعنی بوقتِ ذبح بہنے والا خون ) ۔ نجاست یا دمِ مسفوح لگے ہونے کی صورت میں گوشت کو دھو کر پاک کرنا ضروری ہوگا۔
گوشت کے ساتھ اگر سبزیاں شامل کر لی جائیں تو وہ نہ صرف غذائیت میں بہتر ہو جاتی ہیں بلکہ گوشت کے باعث جن بیماریوں کا احتمال ہے اس سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ ایسے لوگ جو پہلے ہی مختلف قسم کی بمیاریوں مثلاً یورک ایسڈ کی زیادتی، جوڑوں میں درد، بلڈ پریشر، شوگر، دل، معدہ یا جگر وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ انہیں اس موقع پر خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے
غذائی ماہرین کے مطابق گائے کے گوشت کی 100
گرام مقدار میں 250 کیلوریز ، 15 گرام فیٹ ، 30 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصد سوڈیم ، 14 فیصد آئرن ، 20 فیصد وٹامن بی 6، 5 فیصد میگنیشیم ، 1 فیصد کیلشیم اور وٹامن ڈی اور 43 فیصد کوبالامن پایا جاتا ہے جبک بکرے کے گوشت کے 11 گرام مقدار میں 294 کیلوریز، 32 فیصد فیٹ ، 45 فیصد سیچوریٹڈ فیٹ، 32 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصدسوڈیم ، 8 فیصد پوٹاشیم ، 50 فیصد پروٹین ، 10 فیصد آئرن ، 5 فیصد وتامن بی 6، 5 فیصد میگنیشیم ، اور 43 فیصد کوبالامین پایا جاتا ہے ۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box