پھول برصغیر کی تہذیب و ثقافت کا لازمی حصہ ہیں۔ شادی بیاہ، گھر کی سجاوٹ، غرض ہر قدم پر پھولوں کی رنگا رنگ بہار اجتماعی اور ثقافتی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ زمانۂ قدیم سے رائج ہے اور عصر حاضر میں بھی اس کی بڑی مانگ ہے۔ یہ سجاوٹ کے علاوہ ہمارے کھانوں کو رنگدار اور خوشبودار بنانے کے کام آتے ہیں۔
آج کے آرٹیکل میں میں کیوڑہ کے پودے کے بارے معلومات بیان کروں گا۔
کیوڑہ کا درخت بارہ فٹ سے زائد بلند ہوتاہے۔پتے دو فٹ سے پانچ فٹ تک لمبے ہوتے ہیں جو آگے سے نوک دار اور دونوں پہلو پر کانٹے ہوتے ہیں جب یہ درخت چارسال کا ہو جاتاہے تو اس میں بہت خوشبو دارپھول پیدا ہوتاہے اور اس کی خوشبو دور سے آتی ہے اور مثل پونڈے کے اس کی چوٹی پر بال نکلتے ہیں۔ کیوڑے کے پتے لمبے نوک دار ہوتے ہیں اور ان کے دونوں پہلوؤں پر کانٹےہوتے ہیں ۔ کیوڑے کا چار سال کا درخت پھول دیتا ہے اور بیسویں برس تک اس یں پھول آتے رہتے ہیں ۔ایک درخت سال میں تقریبا” تیس سے پینتیس پھول پیدا کرتا ہے۔ ہر پھول کا وزن تقریبا” پانچ سے چھ اونس ہوتا ہے۔موسم برسات کے ساون مہینے میں کیوڑہ اچھی طرح ہرا بھرا اور پھولتا ہے ،اس کی خوشبو من کو موہ لیتی ہے۔اس کا پھول گلی کی مانند ہوتا ہے اسی وجہ سے کیوڑے کی گلّی اسے کہتے ہیں۔
فرحت بخش ہے۔ دل دماغ ۔ کل حواس اور تمام اعضا کو قوت دیتا ہے۔ خفقان و غشی کو نافع ہے اس کا عرق چیچک، خسرہ میں بکثرت مستعمل ہے۔ اس کے استعمال سے عوارض أہستہ آہستہ خفیف ہو جاتے ہیں۔ پسینہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے۔کیوڑہ بھی برصغیر کے کھانوں کی جان ہے۔ کیونکہ اس کی تیز خوشبو قورمے کو اشتہا انگیز بنا دیتی ہے۔ عرق کیوڑہ کا ایک قطرہ پوری ہانڈی کو خوشبودار بنانے کے لیے کافی ہے۔ بہت سی جگہ بریانی میں بھی کیوڑے کا استعمال ہوتا ہے۔مفرح و مقوی قلب ،مسکن اوجاع ،دافع امراض وبائیہ میں اس کا عرق اور شربت تفریح و تقویت قلب و دماغ خفقان خسرہ چیچک میں استعمال کرتے ہیں وبا کے دنوں میں عرق یا شربت کا استعمال کیاجائے تو چیچک و خسرہ کم نکلتاہے۔
قلوں میں دبا کر اس سے تیل نکلاجاتاہے یہ تیل سرمیں لگانے کے علاوہ وجع المفاصل درد کمراور اعضاء کی تھکان کو دور کرتاہے ۔اس کا بکثرت استعمال المفاصل درد کمر اور اعضاء کی تکان کو دور کرتا ہے۔موجودہ دور میں اصل روح کیوڑہ کے نام پر پچانوے فیصد جعلی مال فروخت ہو رہا ہے جو پانی میں کیوڑے کا ایسنس ڈال کر تیار کیا جاتا ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box