مکئی ایک خوراک ایک چارہ


 مکئی گھاس کے خاندان سے تعلق رکھنے والا پوداہے جس سے اناج کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔مکئی کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو تقریباً 7 میٹر تک بلند ہو سکتی ہیں، جبکہ معیاری طور پر مکئی کے پودے کی اوسط اونچائی 2.5 میٹر ہوتی ہے۔مکئی ایک اہم اجناس میں شمار ہوتی ہے۔اس کی کاشت پوری دنیا میں کی جاتی ہے۔مکئی کی اہم دو اقسام ہیں:زرد اور سفید۔مکئی کا ذائقہ نہایت عمدہ ہوتا ہے،جب کی زرد مکئی غذائیت کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے۔زرد رنگ کی مکئی میں بیٹا کیروٹین پائی جاتی ہے۔موسم خریف کا نہایت ہی مزیدار چارہ ہے یہ دودھ دینے والے جانوروں کے لیے خاص طور پر مفید ہے اور مئی جون میں چارہ کی قلت کو بخوبی طور پر پورا کرتا ہے۔ اسے عرف عام میں گاچا کہا جاتا ہے۔ ایک ہی کھیت میں اس کی ایک سال میں تین یا چار فصلیں لی جا سکتی ہیں ۔ یہ فصل چارہ کے لیے تقریباً 60 دن میں تیار ہو جاتی ہے۔

  غذائیت سے بھرپور مکئی میں نشاستہ، ریشہ، حیاتین اور معدنیات بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ مکئی کے ایک کپ (164 گرام) میں 177 حرارے، 41 گرام نشاستہ، 5.4 گرام لحمیات، 2.1 گرام چکنائی، 4.6 گرام ریشہ، روزانہ کی ضرورت کا 17 فیصد وٹامن سی، 24 فیصد تھیامین (وٹامن بی 1)، 19 فیصد فولیٹ (وٹامن بی9)، 11 فیصد میگنیشیم اور 10 فیصد پوٹاشیم ہوتا ہے۔

  غذائی ماہرین کے مطابق چھلی، بھٹہ یا مکئی میں وٹامن سی پایا جاتا ہے جو کہ بے شمار امراض سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے،

 جن افراد کو ذیابیطس یا بلڈ پریشر کامسئلہ ہوانہیں مکئی کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ اس میں ایسے اجزاءپائے جاتے ہیں جو نظام انہضام کے لئے انتہائی مفید ہوتے ہیں۔

مکئی میں وٹامن بی کی ایک قسم فولیٹ پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے خون میں ایسی چیزیں پیدا نہیں ہوتیں جو دل کی بیماری پیدا کریں۔ 

  مکئی میں آئرن کی بھی ایک نمایاں سطح ہوتی ہے ، جو نئے سرخ خون کے خلیوں کی تشکیل کے لئے ضروری معدنیات میں سے ایک ہے۔ وٹامن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی کو مکئی کھاکر بآسانی دور کیا جاسکتا ہے۔اس میں آئرن کی وافرمقدار پائی جاتی ہے جو کہ جسم میں کومضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔

  آنتوں اور انہضام کے مسائل مکئی میں پایا جانے والا ریشہ آپ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ریشے سے بہت سے امراض کا امکان کم ہو جاتا ہے جن میں دل کی بیماریاں اور چند اقسام کے سرطان شامل ہیں۔

   تحقیق کے مطا بق پا پ کار ن میں بھی پھلو ں میں پا یا جا نے والے اہم جزو موجو د ہو تے ہیں لہذا وہ افرادجو پھل اور سبزیا ں کھانا پسند نہیں کرتے وہ پا پ کار ن کھاسکتے ہیں ۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیاہے کہ ڈائٹنگ کر نے والے افراد بھی پا پ کا ر ن کھا سکتے ہیں کیو نکہ یہ ایک بہترین غذا ہے ۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی