رکیلا دنیا بھر میں مشہور پھلوں میں سے ایک پھل ہے اور تقریبن ہر گھ میں پایا جاتا ہے سب اس کو اپنی روز مررہ کی زنگی میں استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔
کیلا بچوں، بڑوں اور بزرگوں کا پسندیدہ پھل اور سب کے لیے یکساں مفید غذا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کیلے کھانے سے ہائی بلڈ پریشر سمیت متعدد طبی شکایات سے بچا جا سکتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق کیلے میں سیب سے زیادہ وٹامنز اور منرلز پائے جاتے ہیں جبکہ کیلا سال کے 12 مہینے دستیاب رہنے والا ایسا پھل ہے جو زیادہ مہنگا بھی نہیں ہوتا۔غذائیت سے بھر پور پھل، ایک عدد کیلے میں 105 یا 89 کیلوریز (حجم کے مطابق)، 75فیصد پانی، 23فیصد کاربوہائیڈریٹس، 1 فیصد پروٹین، 9 فیصد پوٹاشیم، 33 فیصد وٹامن بی 6، 8 فیصد میگنیشیم، 31 فیصد فائبر ، 11 فیصد وٹامن سی جبکہ پانی کی مقدار بھی پائی جاتی ہے۔
آملوک (جاپانی پھل ) اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتا ہے.اس کا ذائقہ ترش ہوتا ہے پر اس کے باجود اس کو لوگ کافی شوق سے تناول کرتے ہیں۔
اگرچہ اس کا حجم زیادہ نہیں ہوتا مگر اس میں غذائی اجزا کی مقدار متاثر کن ہے، درحقیقت ایک پھل میں 118 کیلوریز، 31 گرام کاربوہائیڈریٹس، ایک گرام پروٹین، 0.3 گرام چکنائی، 6 گرام فائبر، روزانہ درکار وٹامن اے کی 55 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن سی کی 22 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن ای کی 6 فیصد جبکہ وٹامن کے کی 5 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن بی 6 کی 8 فیصد مقدار، پوٹاشیم کی روزانہ درکار 8 فیصد مقدار، کاپر کی درکار 9 فیصد جبکہ میگنیز کی 30 فیصد مقدار جسم کو دستیاب ہوتی ہے۔
اس پھل کو تازہ، خشک یا پکا کر بھی کھایا جاتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اس کی جیلی، مشروبات، پائی، سالن اور پڈنگ وغیرہ بھی تیار ہوتے ہیں۔
امرو د کا شمار بھی انہی پھلوں میں کیا جاتا ہے جو صحت کے لیے بہت مفید ہیں، کیوں کہ یہ پھل بہت سے غذائی اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ امرود میں آئرن، وٹامن سی، کیلشیم، وٹامن اے، پوٹاشیم، سوڈیم، فائبر، کاربوہائڈریٹس، اور پروٹین پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، امرود بطور دوا اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا، اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے یہ پھل بھی بہت لذیز ہے۔
امرود قوتِ ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے اور امراضِ قلب سے بھی نجات دلاتا ہے، اس کے علاوہ یہ ذہنی امراض، بواسیر اور زکام سے چھٹکارا حاصل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
انگور کو اگر انسانیت کے لیے قدرت کا انعام کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، کیوں کہ یہ پھل غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے اور مختلف طبی خصوصیات بھی رکھتا ہے۔
انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں ہوتا ہے جو غذائی ضروریات کے علاوہ علاج معالجہ کی خصوصیات سے بھی مالا مال ہے۔ارشادِ ربّانی ہے:اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر سے چشمے نکالے،تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ (سورۃیٰسین،34)
انگور میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
انگوروں کی آٹھ ہزار سے زیادہ اقسام ہیں۔انگور کی غذائیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کپ لال یا ہرے انگور میں 104 گرام کیلوریز،27.3گرام کار بوہائیڈریٹ اور 1.1گرام پروٹین ہوتاہے۔ جبکہ اس میں وٹامن سی 27فیصد،وٹامن کے 28 فیصد، تھائیامن7فیصد،رائبو فلان 6فیصد،وٹامن بی سکس 6فیصد،پوٹاشیم 8فیصد،کاپر 10فیصد اور میگنیز 5فیصد پر مشتمل ہوتاہے۔



ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box