ہاتھی ۔ بڑے، سبزی خور ممالیہ جانوروں کا ایک خاندان ہے جسے اجتماعی طور پر ہاتھی اور میمتھ کہتے ہیں۔ یہ زمینی بڑے پستان دار جانور ہیں جن کی سونڈ بڑی ہوتی ہے۔سونڈ کے ذریعےبہت وزنی چیزیں اٹھاسکتا ہے۔ہاتھی کی سونڈ کو عربی میں ’خُرطوم‘ کہتے ہیں چوں کہ یہ نلی جیسی ہوتی ہے اور اسے ہاتھی حسب ضرورت رول بھی کرلیتا ہے لہٰذا اس رعایت سے roll ہوا پائپ اور رِیل (reel) وغیرہ کو بھی خرطوم کہتے ہیں
ہاتھی اپنی سونڈ سے درختوں کے بڑے بڑے تنے اٹھالیتا ہے۔ ان کی دیکھنے کی صلاحیت تیز ہوتی ہے
اور دانت باہر کی طرف نکلے ہوتے ہیں۔
ہاتھی کے نوکیلے دانت اس کا موثر ترین اوزار ہے، جن کے ذریعے وہ بہت سارے کام سرانجام دیتے ہیں۔
اس خاندان میں زیادہ تر نسل اور انواع ناپید ہیں۔ صرف دو نسلیں افریقی ہاتھی اور ایشیائی ہاتھی زندہ ہیں۔
افریقی سوانا ہاتھی اوسطاً کندھے پر 10تا 11 فٹ لمبا ہے اور پورے سائز میں اس کا وزن 4 سے 6 ٹن کے درمیان ہے۔ اس کی پیٹھ سیڈل کی شکل کی ہے، کم گنبد والا سر، آہستہ سے اوپر کی طرف مڑے ہوئے دانت اور بڑے کان ہیں۔ہاتھی کے کان ہوتے تو بہت بڑے ہیں.لیکن اس کے باوجود ان کی سننے کی صلاحیت بہت کمزور ہوتی ہے۔ان کی بڑی سونڈ کی وجہ سے ان کی سونگھنے کی صلاحیت بہت تیز ہوتی ہے
تنے کی نوک پر دو "انگلیاں" ہوتی ہیں، ایک اوپری اور ایک نیچے۔ چھوٹا ایشیائی ہاتھی کندھے پر تقریباً 8تا10 فٹ لمبا ہے اور اس کا وزن 3تا 5 ٹن ہے۔ اس کی پیٹھ خمیدہ ہے، جس سے پیٹھ کوبڑے کی شکل ملتی ہے، اور اس کا سر دو گنبد والا ہے۔ دانت آہستہ سے اوپر کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں لیکن افریقی ہاتھی سے چھوٹے ہوتے ہیں اور کان بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ آخر میں، ایشیائی ہاتھی کی سونڈ کی نوک پر ایک "انگلی" ہوتی ہے۔
ہاتھی کا پسندیدہ کھانا گنا ہے، مگر اس کے ساتھ ہاتھی دیگر پھل،سبزیاں اور گھاس بھی شوق سے کھاتاہے۔
ایک افریقی ہاتھی کا اوسطاً وزن چھ ہزار کلوگرام ہوتا ہے یعنی وہ روزانہ تقریباً 60 کلو گرام خشک چارہ کھاتے ہیں جبکہ دودھ دینے والی مادہ ہاتھی روزانہ اپنے وزن کا تقریبا ڈیڑھ فیصد چارہ کھاتی ہے۔ اگر اس چارے میں پانی کی مقدار بھی شامل کر لیں تو افریقی ہاتھی روزانہ تقریبا ڈھائی سو کلو چارہ کھا جاتے ہیں۔
ایک ہاتھی کے عمومی حمل کی میعاد 22 مہینے ہوتی ہے، جو کسی بھی زمینی جانور کے مقابلے میں طویل ترین میعادِ حمل ہے۔ پیدائش کے وقت ایک ہاتھی کے بچے کا عمومی وزن 120 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ ایک ہاتھی کی طبعی زندگی عموماً 70 سال تک ہوتی ہے، جبکہ کچھ ہاتھی اس سے زیادہ عرصے تک بھی زندہ رہتے ہیں۔
ہاتھی کا دماغ نا صرف زمین پر پائے جانے والے تمام ممالیہ جانوروں سے بڑا ہوتا ہے بلکہ ان میں انسانوں سے زیادہ پیرامیڈل نیورونز بھی ہوتے ہیں۔ ان نیورونز کو سمجھ بوجھ کے افعال کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، یعنی ہاتھیوں میں انسان سے زیادہ یاد رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
ہاتھی ایک سماجی مخلوق ہے، جن میں خاندانی نظام کی بہت زیادہ اہمیت پائی جاتی ہے اور اس خاندانی نظام میں مادہ کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔
اور ان میں سماجی تعلقات کے حوالے سے پائی جانے والی صفت کے باعث ان میں ہمدردی کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔
ہاتھی کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ عمر پانے والے جانوروں میں ہوتا ہے۔ایک ہاتھی کی اوسط عمر ستر سال ہوتی ہے، لیکن کچھ ہاتھی لمبی عمر پاتے ہیں۔ ہاتھی کی کھال ایک انچ موٹی ہوتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box