گرمیوں کے پھل اور ان کے فوائد




گرمیوں کے پھل اور ان کے فوائد! 

  لیچی

گرمیوں میں لیچی کا شربت بڑے شوق سے پیا جاتا ہے، جو جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کےساتھ صحت بخش بھی ہوتا ہے۔ لیچی کے درخت کی ایک اورخاصیت یہ ہے کہ اس کے پھولوں کی وجہ سے شہد کی مکھیاںاس پر ڈیرہ ڈال دیتی ہیں اور انتہائی عمدہ شہد تیار کرتی ہیں۔ لیچی میں وٹامن سی کی بھرپور مقدار کے ساتھ ساتھ سوڈیم، کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن اے، بی، میگنیشیم، کاپر، زنک اور تھائیمین بھی پایا جاتاہے۔ یہ جسم میں پانی کی کمی کو بھی پورا کرتی ہے۔ہوتی ہے۔

آم

موسم گرما کی سوغات، تمام پھلوں میں بادشاہ کی حیثیت رکھنے والا خوش ذائقہ،خوشبودار پھل آم ہر عمر کے افراد کو پسند ہوتا ہے، آم واحد پھل ہے جس سے دل نہیں بھرتا اور یہی وجہ ہے کہ بچے، بڑے، بوڑھے اور جوان اس پھل کو نہایت شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔

تربوز

غذائی ماہرین کے مطابق تربوز موسم گرما کا وہ خاص پھل ہے جس میں 92فیصد مقدار پانی پایا جاتا ہے اور پانی انسانی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔

گرمیوں میں زیادہ پسینہ آنے اور روزہ رکھنے کی صورت میں پانی کی کمی کا ہونا عام بات ہے اور ان مسائل کا واحد حل تربوز کے استعمال سے کیا جا سکتا ہے۔








آم میں چربی، کولیسٹرول اور سوڈیم کی مقدار بہت کم ہوتی ہے تاہم اس میں وٹامن بی 6 کے علاوہ وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای اور وٹامن  کی بھی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔ آم میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور تانبے کی بھی بہترین مقدار موجود ہوتی ہے جو صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پھلوں کا بادشاہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔






جامن

موسم گرما میں آنے والا پھل جامن صحت کے حوالے سے انتہائی مفید اور اہم پھل ہے اور دیگر پھلوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے۔ جامن کے ساتھ ساتھ جامن کی گھٹلیاں اور پتے بھی بہت ساری بیماریوں کے علاج میں استعمال کئے جاتے ہیں۔  کینسر، دل کی بیماریوں ، ذیابیطس، دمہ ، معدہ اور جلد کے مختلف مسائل کے حل کیلئے نہایت مفید پھل ہے۔ جامن میں اہم غذائی اجزاءجیسے کیلشیئم ،آئرن ،میگنیشیئم ،فاسفورس ،سوڈیم، وٹامن، تھیامن ،ربوفلیون، نیاسن، کاربوہائیڈریٹ ،کیروٹین، فولک ایسڈ، فائبر، فیٹ، پروٹین اور پانی موجود ہوتے ہیں۔ جو صحت کے لئے بے انتہا مفید ہیں۔


خربوزہ

 خربوزہ موسم گرما کا پھل ہے، جس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، اس کے بہت سے فوائد ہیں خاص طور پر انسانوں کے لئے، اس میں مختلف قسم کی بیماریوں کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی ہے، اس میں مختلف قسموں کے 95 فیصد کے قریب وٹامنز ہوتے ہیں، اس میں بہت زیادہ تعداد میں منرلز بھی ہوتے ہیں۔خربوزے میں فیٹس کی مقدار کم ہوتی ہے جبکہ وٹامن اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن سی، بی 3، ای، فولیٹ، بی 9 ، وٹامن اے، کیروٹینائڈز، تھامین، بی 1 اور بی 6 ہوتا ہے۔

 خربوزے میں پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشیم، سوڈیم، کیلشیئم، آئرن اور زنک بھی ہوتا ہے۔ ہر 100 گرام خربوزے میں 34 کیلوریز ہوتی ہیں۔ آلو بخارا قدرت کے ان عطیات میں سے ہے جن میں غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ آلو بخارے میں چونا فاسفورس اور فولاد کی تو وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ جو حضرات کمزور ہوں یا خون کی کمی کا شکار ہوں اور وہ فولاد کا کوئی مرکب استعمال کرنے کے خواہش مند ہوں تو وہ شربت فولاد یا کشتہ فولاد کی بجائے آلو بخارا کھائیں۔

آلوبخار

 آلو بخارا ملٹی وٹامن پھل ہے۔ اس میں کئی قسم کے وٹامن پائے جاتے ہیں۔ آلو بخارا وٹامن الف، ب، ج اور ز (پی) سے بھرپور ہوتاہے۔ وٹامن (پی) کی کمی سے خون پتلا ہوجاتا ہے اور بدن کے مختلف حصّوں میں سے پھوٹ نکلتا ہے۔ آلو بخارا میں وٹامن پی خون کے اس عارضے کا علاج ہے۔قدرت نے اس قرمزی رنگت والے پھل کو خوب نما بنایا ہے۔ یہ دیکھنے میں‌ اکثر آتشیں سرخ بھی نظر آتا ہے۔ اس کا چھلکا نرم اور اندر گودا ہوتا ہے۔وٹامن سی جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے، یہ وٹامن جسم کی انفیکشن اور ورم کے خلاف جسم کی مزاحمت کو زیادہ بڑھاتا ہے۔

 آڑو  شمال مغربی چین کا مقامی پھل ہے۔ فارس میں اس کی بڑے پیمانے پر کاشت کی جاتی تھی جہاں سے یہ یورپ میں پہنچا۔

 آڑو بیٹا کیروٹین کے مجموعہ کے ساتھ جسم کے تمام حصوں میں خون کی گردش کو بڑھانے کے علاوہ آنکھوں کے پٹھوں کی فعالیت کو بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے۔ غذائی اجزاء کی صحت مند خوراک ہے، آڑو کے ساتھ بہت بڑا ذخیرہ وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای، آئرن، زنک، میگنشیئم موجود ہوتے ہیں۔جسم میں موجود زہریلے مادے کے خاتمہ کیلئے بہترین پھل ہے، انسانی جسم کو روزانہ کی بنیاد پر کئی ایجنٹوں اور زہریلے مادوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان ٹاکسن کا کام گردوں میں اضافی دباو¿ ڈالنا اور نظام کو روکنا ہے۔ پوٹاشیئم اور آڑومیں موجود غذائی ریشہ کے ساتھ گردوں کو بہتر کام کرنے کی مدد حاصل ہے۔یہ مزیدار پھل مدافعاتی نظام کے کام کاج کیلئے ایک بوسٹر کے طور پر کام کرتا ہے جس میں بہت زیادہ مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ اصل میں آڑو بھی جلد کی حفاظت کرتا ہے۔



 کھجور آئرن کا ایک بھرپور ذریعہ ہے، جسم میں خون کی کمی اور خون کے بہاؤ کو روکنے کے لیے آئرن کی مقدار ضروری ہے۔ پورے جسم میں خون اور آکسیجن کی اچھی فراہمی آپ کو زیادہ جاندار اور توانائی بخش محسوس کر سکتی ہے۔ کھجور پوٹاشیم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ 

کھجوریں غذائیت سے بھری ہوتی ہیں ، خاص طور پر خشک کھجوریں۔ خشک کھجوروں میں کیلوری خاص طور پر کاربوہائیڈریٹ زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں ریشوں کے ساتھ کئی ضروری وٹامنز اور معدنیات بھی شامل ہیں۔ کھجوریں انٹی آکسیڈینٹس کی بھرپور ارتکاز کے لئے مشہور ہیں۔ 

جنت میں سے ہے اس میں زہر سے شفا ہے۔“ (ابن النجار)

نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ساری دنیا کے مسلمان افطار کے وقت کھجور سے روزہ کھولنا ثواب سمجھتے ہیں اور اب جدید تحقیق بھی یہ کہہ رہی ہے کہ کھجور جسم اور صحت کیلئے نہایت مفید ہے۔


تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی