اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیا کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لیے دفاعی طور پر اہم حصے میں واقع ایک خود مختار اسلامی ملک ہے۔ 21 کروڑ کی آبادی کے ساتھ یہ دنیا کا پانچواں بڑی آبادی والا ملک ہے۔ 881,913 مربع کلومیٹر (340,509 مربع میل) کے ساتھ یہ دنیا کا تینتیسواں بڑے رقبے والا ملک ہے۔ اس کے جنوب میں 1046 کلومیٹر کی ساحلی پٹی ہے جو بحیرہ عرب سے ملتی ہے۔پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران واقع ہيں۔
پاکستان کے دریا
دریائے دشت ،دریائے کیچ ،دریائے باسو ،دریائے ہنگول ،دریائے نال ،دریائے پرولی ،دریائے حب ،اورنگی نالہ
ملیر ندی ،لیاری ندی ،گجر نالہ
دریائے سندھ ،پاکستان کا سب سے طویل اور سب سے بڑا دریا دریائے سندھ ہے ،دریائے پنجند ،دریائے چناب ،دریائے راوی ، دریائے جہلم ،دریائے پونچھ ،دریائے کنہار ،دریائے نیلم ،دریائے توی ،دریائے ستلج ،دریائے گومل ،دریائے کندار
دریائے ژوب، ،دریائے کرم ،دریائے ٹوچی ،دریائے سوان
لنگ نالہ، دریائے ہارو ،دریائے کابل ،دریائے سوات ،دریائے جندی ،دریائے پنجکورہ ،دریائے باڑہ ،دریائے چترال،دریائے استور ،دریائے روپل ،دریائے گلگت ،دریائے ہنزہ ،دریائے ہسپر ،دریائے شگر ،برالڑو ندی ،دریائے شیوک ،دریائے سرو
دراس ندیریا ئے شنگھو در،یا ڈری ،دریائے گھگر،بولان ندی اور دریائے لورالائی۔
پاکستان کے پہاڑ
پاکستان 7000 میٹر سے اوپر 108 چوٹیوں کا گھر ہے۔5،000 سے زائد 4،000 میٹر اوپر چوٹیوں کی کوئی تعداد نہیں ہے۔ دنیا میں 14 سب سے زیادہ اونچی چوٹیوں میں سے پانچ (آٹھ ہزار سے زیادہ بلندی ولی) پاکستان میں ہیں۔ (جن میں سے چار کنکوریا کے گردوں میں واقع ہیں, بالٹورو گلیشیئر اور گودنسٹ آسٹن گلیشیئر کے سنگم). پاکستان میں سب سے زیادہ چوٹیاں کوہ قراقرم میں واقع ہیں پہاڑ کی حد (جو پاکستان کے تقریبا گلگت بلتستان کے علاقے میں تقریبا مکمل طور پر واقع ہے) میں موجود ہے۔
پاکستانی صحراؤں کی فہرست
صحرائے دی سندھ ،صحرائے خاران صحرائے تھل ،صحرائے تھر
پنجاب
بیراج
اسلام بیراج ،پنجند بیراج ،تریموں بیراج ،تونسہ بیراج
جناح بیراج ،چشمہ بیراج ، رسول بیراج
ہیڈ ورکس
بلوکی ہیڈورکس ،خانکی ہیڈورکس ،سدھنائی ہیڈورکس ،سلیمانکی ہیڈورکس ،قادر آباد ہیڈورکس ،مرالہ ہیڈورکس
سندھ
غلام محمد بیراج ،گدو بیراج
خیبر پختونخواہ
منڈا ہیڈورکس
خیبر پختونخواہ
منڈا ہیڈورکس
تربیلا ڈیم (یا نیشنل ڈیم) پاکستان کا سب سے بڑا نادھ ہے جو دریائے سندھ پر قائم ہے یہ اسلام آباد سے 50 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور دریائے سندھ کے اوپر 485 فٹ کی اونچائی پر ہے اور 95 مربع میٹر کا رقبے پرپانی کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہےاسی لیے اسے دنیا میں دوسرے بڑے آبی زخیرہ کی حیثیت حاصل ہے اس ڈیم کو 1974 ء میں مکمل کیا ۔
منگلا ڈیم
دریائے جہلم پر1967ء میں منگلا ڈیم بنایا گیا اور اس میں 5.9 ملین ایکڑ پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، اسی دریا پر 1967ء میں رسول بیراج تعمیر کیا گیا ۔ دریائے جہلم سے دو نہریں نکالی گئی ہیں، لوئر جہلم کینال 1901ء میں ضلع گجرات کے مقام رسول سے نکالی گئی، اس کی مزید دو شاخوں کھارا در مشین سے ضلع جھنگ کا شمالی حصہ سیراب ہوتا ہے، اپر جہلم 1915ء میں تعمیر کی گئی، اس کا پانی منگلا سے دریائے چناب تک جاتا ہے۔
غازی بروتھا دریائے سندھ پر بنایا گیا ایک پن بجلی کا منصوبہ ہے۔ اگست 2003ءمیں بجلی کی پیداوار کا باقاعدہ آغاز کرنے والے اس منصوبے نے گذشتہ آٹھ برس میں قومی نظام کو تقریباً 53ارب یونٹ بجلی مہیا کی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 2کھرب 26ارب 50کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔
پاکستان کے بڑے شہر۔
ملک کے 10 بڑے شہروں میں کراچی کا پہلا، لاہور کا دوسرا اور فیصل آباد کا تیسرا نمبر ہے۔ کراچی کی آبادی میں 59 فیصد جبکہ لاہور کی آبادی میں 116 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کراچی کی آبادی 1998 میں 93 لاکھ 39 ہزار اور لاہور کی 51 لاکھ 43 ہزار تھی۔ ملک کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کی آبادی 20 لاکھ سے بڑھ کر 32 لاکھ ہوگئی راولپنڈی چوتھا بڑا شہر ہے اس کی آبادی 10 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ ہوگئی، گوجرانوالہ کی آبادی 11 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس کا نمبر پانچواں ہے۔
پاکستان کی مردم شماری میں کل گنتی میں سے 13 کروڑ 20 لاکھ 13 ہزار دیہی اور 7 کروڑ 56 لاکھ 70 ہزار شہری آبادی شامل ہے۔
خیبر پختونخوا کی آبادی 2017 میں 3 کروڑ 5 لاکھ 10 ہزار دکھائی گئی جبکہ فاٹا کی آبادی 49 لاکھ 90 ہزار بتائی گئی۔
پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں کل آبادی 10 کروڑ 99 لاکھ 90 ہزار ہے اور سندھ 2017 کی مردم شماری میں 4 کروڑ 78 لاکھ 50 ہزار افراد رہتے ہیں۔
بلوچستان کی آبادی تقریبا ایک کروڑ 23 لاکھ 40 ہزار جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ بتائی گئی۔
مذاہب کی بنیاد پر آبادی کی کل تعداد میں 96.47 فیصد مسلمان شامل ہیں، اس کے بعد 1.27 فیصد عیسائی، 1.73 فیصد ہندو، 0.09 فیصد احمدی، 0.41 فیصد شیڈول ذات اور 0.02 فیصد دیگر شامل ہیں۔
خریف کی فصلیں،ربیع کی فصلیں
گنا ،چاول ،روئی ،بجرا ،جوار ،مکئی ،سیسم ،ہلدی ،مرچ ،مونگ پھلی ،سویا بین ،زعفران ،سورج مکھی، گندم، ٹماٹر، تمباکو ریپسیڈ اور سرسوں، آلو، پیاز، السی، گرام، لہسن دھنیا، جو۔
خریف کی سبزیاں
ربیع کی سبزیاں
اروی ، گوار ،کھیرا ،پھلیاں ،لانگ خربوزہ ،لوفا
لوٹس روٹس ،تربوز کا کدو ،کستوری کی تربوز ،کدد ،ٹنڈا ،
گوبھی ،مولی ،پالک ،شکر قندی ،ٹماٹر ،شلجم ،مٹر ، پھلیاں چقندر ،میتھی ،بند گوبھی ،گاجر ،گوبھی ،بھنڈی ،بینگن۔
خریف کے پھل ،ربیع کے پھل
بادام ،سیب ،خوبانی ،کیلا ،چیکو ،ناریل ،انجیر ،گرما ،امرود
جامن ،لیچی ،آم ،انار ،بیر ،ناشپاتی فا لسا ،پپیتا ،آڑو ،سردہ
اخروٹ ، خربوزے ،کیلا ،بیر ،امرود ،لوکاٹ ،انگور ،تاریخوں
بادام ،مل بیری ،گریپ فروٹ ،کنو ،لیموں ،مینڈارن ،کینو
مسومبی، ھٹا چونا ،ھٹی اورنج ،میٹھا چونا ، لیموں۔
خریف کی دالیں ،ربیع کی دالیں
مونگ ، ماش ، مسور ،مٹر ،دیگر ربیع دالیں۔
جانور
بکری کا بچہ، بچھڑا بھینس ، بھیڑ کا بچہ ، اونٹ ، بلی ، ہرن ، بھیڑ ، ہرن کا بچہ ، مینڈھا ، گھوڑی ، کتا ، خرگوش ، نیولا ، ببر شیر ، گائے ، چیتا ، چھچھوندر ، ہرنی ، چرخ ، گھوڑا ،ارہ سنگھا لومڑی ، گیدڑ ، گھوڑے کا بچہ ، شیر ، گورخر ، غزال ، سور ، ریچھ ، بھیڑیا ، کتیا ، بندر ، تیندوہ ، بیل ، اودبلاؤ ، سانڈ ، گدھا ، گلہری ، سانڈی ، بگیلا۔ چمگاڈر۔
پرندے
کوا ،فاختہ،کبوتر،چڑیا ،گدھ،مور،چیل،بگلا،لال کوا،ہدہد،لالی،بلبل،کالی چڑیا،طوطا،بطخ اور راج ہنس۔ختم شد
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box