جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے۔جمعہ عربی لفظ ہے۔ اجتماع سے مشتق ہے، جمعہ (جمع ہونے کا دن)۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ساری کائنات پیدا فرمائی اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی․․․․ سات دن بنائے ، اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام پر فوقیت دی۔ سب سے بہتردن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے۔ اس لیے تم اس کی عظمت سمجھو۔ جس کو اللہ نے باعظمت قرار دیا ہے۔صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورہ نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی ان شاء اللہ۔ سورۂ جمعہ مدنی سورہ ہے، اس سورہ میں ۱۱ آیات اور ۲ رکوع ہیں۔جمعہ ”جمع“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: جمع ہونا؛ کیونکہ مسلمان اِس دن بڑی مساجد میں جمع ہوتے ہیں اور امت ِمسلمہ کے اجتماعات ہوتے ہیں ، اِس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۲) چھ دن میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی؛ اس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۳) اِس دن یعنی جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، یعنی اُن کو اِس دن جمع کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں صرف نمازِ جمعہ کی اذان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ جب جمعہ کی اذان دی جائے تو نماز کے لیے حاضر ہوں۔ ارشاد فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَO
الجمعة، 62 : 9
’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت (یعنی کاروبار) چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو‘‘جمعہ کا دن سارے دنوں سے افضل و ممتاز ہے اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ تمام دنوں سے زیادہ ہے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور کی نماز بھی معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل قرآن کی چند آیات تلاوت فرماتے، پھر لوگوں کو نصیحت فرماتے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا روایت ہے: جمعہ کے دن جوغسل کرے، سویرے مسجد جائے، اور خطیب کے قریب بیٹھے اور توجہ سے خطبہ سنے، تو مسجد آنے والے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے قیام وصیام جیسا ثواب ہے۔ (امام احمد نے یہ حدیث روایت کی ہے جس کے رجال ورواۃ ثقہ ہیں)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے محروم رکھا۔ یہود کے لیے سنیچر کا دن تھا اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا۔ چنانچہ وہ قیامت تک ہمارے پیرو ہوں گے دنیا میں ہم سب کے بعد اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہمارا فیصلہ سبھی لوگوں سے پہلے ہوگا۔ (مسلم)
جمعہ کے دن غسل کرنا مسنون و مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں ہے، اس لئے اگر کسی عذر کی وجہ سے جمعہ کا غسل نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، لیکن بغیر کسی عذر کے اس کے ترک کی عادت بنا لینے میں گناہ کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا احتیاط اس میں ہے کہ بغیر عذر کے جمعہ کے دن کا غسل ترک کرنے سے بچنا چاہئے۔
جمعہ کے دن درج ذیل امور مسنون ومستحب ہیں:(۱)غسل کرنا۔(۲)مسواک کرنا۔(۳)خوشبو لگانا۔( ۴)عمدہ لباس پہننا۔( ۵)تیل لگانا۔
( ۶)نماز فجر میں امام کا سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت کرنا-(۷)نماز جمعہ کے لئے پیدل جانا-(۸)جمعہ کے لئے مسجد میں جلدی جانا-(۹)امام کے قریب بیٹھنا-(۱۰)جمعہ کے خطبے کو خاموشی کے ساتھ سننا-(۱۱)نماز جمعہ میں امام صاحب کا سورہ اعلی اور سورہ غاشیہ یاسورہ جمعہ اور سورہ منافقین کی تلاوت کرنا۔( ۱۲)جمعہ کے دن درود پاک کثرت سے پڑھنا ۔جمعہ کے دن دعا مانگناخاص کر دونوں خطبوں اور عصر سے مغرب کے درمیان واضح رہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان دعاصرف دل دل میں کی جائے ،زبان سے نہیں اور نہ ہی اس کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں۔ خاص طور پر جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے کے بارے میں بھی مستقل فضائل ہیں، مثلا :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اس دن کثرت سے درود پڑھاکرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے۔ درود شریف ایک سلام ہے جو حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور اسکے بے بہا فوائد ہیں، جس سے دنیا و آخرت کی بھلائی اورکامرانی ممکن ہے۔( وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ )
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box