ٹوپی کی اہمیت و فضیلت کیا ہے


 ٹوپی - سر پر پہننے والی گول ٹوپی۔ خاص طور پر ثقافتی ورثے کے روپ میں اس کو پہنا جاتا ہے۔ یعنی یہ ٹوپی پہن کر سر کو ڈھکا جاتا ہے۔ مانا جاتا ہے ۔ اکثر مسلمان پانچ وقت نماز کے دوران ان ٹوپیوں کو پہنتے ہیں۔ بہت سارے افراد عام اوقات میں بھی ٹوپی اپنے سر پر رکھتے ہیں۔ ہوتا ہے۔ بر صغیر بھارت اور پاکستان میں،  ٹوپی کہتے ہیں۔ لفظ ٹوپی اردو اور ہندی میں استعمال ہوتا ہے۔

  ہماری تہذیب وثقافت میں ٹوپی کی کیا اہمیت ہے، جاننے والے جانتے ہیں اور خوب جانتے ہیں۔ اور اگر بات کی گہرائی میں جائیں تو شاید دنیا کی ہر تہذیب، بلکہ ہر عہد میں ہر خطے کی نمایاں تہذیب میں ٹوپی اہم رہی ہے۔ اسلام سمیت مختلف ادیان ومذاہب میں بھی ٹوپی زیب وزینت اور اعزاز وافتخار کی علامت ہے۔

  اردو میں ٹوپی کے حوالے سے کئی محاورے مشہور ہیں، جیسے اِس کی ٹوپی، اُس کے سر۔ فارسی میں اسے کہتے ہیں: کُلاہ احمد بَرسَرِ محمود یعنی احمد کی ٹوپی، محمود کے سر۔ فارسی لفظ کُلاہ بھی ٹوپی کے لیے مدتوں رائج رہا،

ٹوپی کی اقسام:

  ٹوپی کی  ایک درجن سے زائد قسمیں ہیں۔ مثلاً ترکی ٹوپی، جناح ٹوپی، ماموں ٹوپی، چکن کی ٹوپی، سندھی ٹوپی، چترالی ٹوپی، بلوچی ٹوپی، قریشیئے کی ٹوپی یا چائنا ٹوپی، اونی ٹوپی، لٹھے کی ٹوپی، سلیمانی ٹوپی، جادوئی ٹوپی، منتری ٹوپی اور آخر میں ٹوپی نہیں ۔۔۔ ٹوپہ جو سخت سردی میں اوڑھا جاتا ہے اور اس میں سے صرف پہننے والے کی آنکھیں اور منہ دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے یہاں عموماً برف باری والے علاقوں میں یہ ٹوپہ پہنا جاتا ہے۔

  سرحد ،سندھ اور بلوچستان میں ٹوپی روایتی رسم اور علاقائی شناخت جبکہ پنجاب میں گرمی سے بچاؤ کے لیے پہنی جاتی ہے۔نواب شاہ میں بننے والی سندھی ٹوپیاں سندھیوں کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کے پٹھانوں میں بھی بہت مقبول ہیں ۔تا ہم بلوچی ٹوپی اور سندھی ٹوپی میں معمولی فرق پایا جاتا ہے بلوچی ٹوپی میں محراب نہیں ہوتا جبکہ سندھی ٹوپی میں محراب بنا ہوتا ہے ۔کوئٹہ ،چمن،پشین،گلستاں ،بوستاں،قلعہ عبداللہ ،لورلائی،زیارت ،ژوب،ہرنائی،قلعہ سیف اللہ میں شادی پر دولہا ٹوپی لازمی پہنتا ہے ۔

  ٹوپی آپ کے کلچر اور قبیلے سے تعلق کا بھی پتہ دیتی ہے۔ کچھ ٹوپیاں شخصیات کی وجہ سے بھی مقبول ہوجاتی ہیں۔ جیسے جناح کیپ،شہید ملٌت کی ٹوپی،ماؤزے تنگ کیپ جو بعد میں بھٹو کیپ بھی بنی۔ قذافی کی ٹوپی اور ملائیشیا کی ٹوپیاں بھی دور سے پہچانی جاتی ہیں۔ پھر سندھی ٹوپی،بلوچی ٹوپی، پٹھانی ٹوپی،کیلاش کی ٹوپی،آغا خانی ٹوپی اور بوہری ٹوپیاں بھی الگ الگ پہچان رکھتی ہیں۔دنیا کے مختلف مذاہب میں عقیدت کے طور پر سر کو ڈھانپا جاتا ہے۔ اس کے لیے کِپا، ٹوپی، پگڑی، چادر اور دستار سمیت بہت سی مختلف اشیاء استعمال کی جاتی ہیں۔اسلام میں بھی ٹوپی کی اہمیت اپنی جگہ ایک مقام رکھتی ہے۔

 حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سفید ٹوپی پہنتے تھے، نیز حضرت رکانہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور مشرکین کے مابین فرق ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہے (ترمذی، ابوداوٴد، مشکاة)حضرت فرقد فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا، آپ کے سر مبارک پر سفید ٹوپی تھی (ابن سکن، سیرت:۷/۴۴۷)

 کبھی آپ صرف ٹوپی پہنے رہتے کبھی ٹوپی پر عمامہ باندھ لیتے اور کبھی صرف عمامہ ہوتا تھا۔

حضرت ابوکبشہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کی ٹوپیاں گول سر سے چپکی ہوتی تھیں۔ (مشکاة شریف:۳۷۴) بحوالہ شماء کبری: ۱/۲۷۰) لہٰذا ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ ٹوپی پہننا سنت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی