محمود غزنوی کا عکس ہندوستانی تاریخ میں عموماً خراب دکھایا گیا ہے اور محمود کی زندگی میں کشت وخون،صرف فتوحات اور حرص دولت کے سوا کوئی کارنامہ بیان نہیں کیا گیا۔وہ جس درجہ کا کشور کشا تھا وہ اسی درجہ کا جہاندار بھی تھا۔ہندو مؤرخین نے سخت نا انصافی کا ثبوت دیا ہے۔ابن اثیر لکھتا ہے کہ محمود عاقل، نیک سیرت اور صاحب علم فرمانروا تھا۔اس کے لئے مختلف علوم و فنون پر کتابیں لکھی ہیں۔وہ علما کا قدر دان تھا۔ان کا اعزاز کرام اور حسن سلوک کرتا تھا۔وہ عدل پرور اور رعایا کے ساتھ شفیق تھا۔جہاں جہاں اصحاب کمال کا پتہ چلتا اپنے دربار غزنی میں آنے کی دعوت دیتا۔محمود کی علم نوازی محض علما اور شعرا تک محدود نہ تھی بلکہ علم کی اشاعت کے لئے غزنی میں مدرسہ قائم کیا تھا۔اس کی علم پروری کے یورپین مؤرخین بھی معترف ہیں۔غزنوی حکمران علم و ادب کے بڑے مربی و سرپرست تھے۔ خصوصا محمود غزنوی کے دور کے فردوسی اور البیرونی کے کارنامے دنیا آج بھی یاد کرتی ہے۔
فردوسی کا شاہنامہ فارسی شاعری کا ایک شاہ کار سمجھاجاتا ہے اور دنیا اسے آج تک دلچسپی سے پڑھتی ہے۔ البیرونی اپنے زمانے کا سب سے بڑا محقق اور سائنس دان تھا۔ اس نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں ۔لین پول نے اس کی عمدہ حکومت اور عدل و انصاف کی بھی تعریف کی ہے، اور ایک سلجوقی وزیر کی رائے نقل کی ہے کہ : وہ ایک عادل حکمراں ،علوم و فنون کا مربی، فیاض اور راسخ العقیدہ شخص تھا، اس کا ثبوت کہ وہ اہل علم کا سرپرست تھا اس سے ملتا ہے کہ اس کے دربار میں علماء و فضلاء بکثرت تھے، البیرونی جیسا ماہر ہیئت، فارابی جیسا فلسفی، عتبی جیسا مؤرخ، بیہقی جیسا سخن ساز، عنصری، فرخی، عسجدی جیسے شعراء اس کے دربار میں تھے، ان میں فردوسی بھی تھا جو فارسی زبان کا ہومر ہے، وہ اس کی سرپرستی سے فیض یاب ہوتا رہا ۔
علماء کی گفتگو کو بڑے شوق سے سنتا، اور اس کی سرپرستی کی وجہ سے مشہور شاعروں اور ادیبوں کا ایک بڑا حلقہ اس کے گرد جمع ہو گیا تھا، ایشیاء کے ہر حصہ سے اہل علم اس کے دربار میں کھچے چلے آئے تھے، شعراء اس کی مدح میں قصائد کہتے، اس کو شعر و شاعری سے کچھ ایسا ذوق پیدا ہو گیا تھا کہ بڑی سی بڑی مہم میں بھی وہ تھوڑا سا وقت اچھی غزل اور اچھی رباعیات سننے کے لئے بچا لیتا تھا، اس زمانہ کے جتنے جید اور ممتاز اہل علم تھے، سب اس کے گرد جمع ہو گئے تھے، ان میں البیرونی جیسا مشہور ریاضی داں، ماہر ہیئت اور سنسکرت کا عالم بھی تھا، عتبی اور بیہقی جیسے مؤرخ بھی تھے اور فارابی جیسا فلسفی بھی تھا، یہ شعر و شاعری کا زمانہ تھا اور محمود کے دربار کے شعراء کی شہرت تمام ایشیاء میں پھیلی ہوئی تھی، ان شعراء میں عقاری کو محمود نے ایک چھوٹے سے قصیدہ کے صلہ میں چودہ ہزار درہم دیئے تھے، عنصری اس عہد کا سب سے باکمال شاعر تھا، فرشتہ کا بیان ہے کہ چار سو شعراء اور اہل علم اور ان کے ساتھ غزنیں کے جامعہ کے سارے طلبہ عنصری کی شاگردی کا دم بھرتے تھے، سدی، طوسی اور فرخی بھی محمود کی فیاضیوں سے سیراب ہوتے رہے ، ان شعراء میں فردوسی نے غیر معمولی شہرت حاصل کی جس نے شاہنامہ لکھ کر محمود کو تاریخ میں غیر فانی بنا دیا ہے ۔
ڈاکٹر تارا چند لکھتے ہیں کہ : محمود اور محمد غوری مذہبی تعصب سےبالکل پاک تھے اگرچہ انہوں نے ملاحدین کو سزائیں دیں، لیکن کسی کو تبدیلی مذہب پر مجبور نہیں کیا ۔ (اسلام اور غیر مسلم ص 188)
برصغیر کے مسلمان مورخین نے محمود غزنوی کو ایک آئیڈیل اسلامی حکمران قرار دیا جس کی ”شوکت و قوت سے شعائر اسلام آسمان تک بلندہوئے۔ اس نے بت پرستی کو جڑ سے ختم کر دیا“۔ سرزمین ہند پر اسلامی مملکت کی بنیاد رکھنے کا سہرا بھی اس کے سر باندھا گیا۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box