نظام شمسی کا ایک روشن ستارہ سورج، شمس یا خورشید ہے۔جبکہ ملکی وے میں ایسے بے شمار سورج موجود ہے میں یہ کہکشاں جی طول موجیں، جن میں نیلی اور بنفشی روشنی شامل ہیں، نکل جاتی ہیں۔ باقی ماندہ طول موجیں انسانی آنکھ کو زردی مائل دکھائی دیتی ہیں۔ آسمان کا نیلا رنگ اسی الگ ہونے والی نیلی روشنی کے باعث ہے۔ سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت جب سورج آسمان پر نیچا ہوتا ہے، تو روشنی کو ہم تک پہنچنے کے لیے اور بھی زیادہ ہوا میں سے گزرنا پڑتا ہے جس کے باعث یہ اثر اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے اور سورج ہمیں نارنجی اور کبھی سرخ تک نظر آتا ہے۔
نظام شمسی کا مرکز سورج ہے اور اس کی کمیت اس نظام کی کل کمیت کا 99.86 فیصدبنتی ہے۔ اس کا قُطر13 لاکھ 92 ہزارکلومیٹر ہے۔
اگرچہ سائز کے لحاظ سے ، سورج کا قطر تقریبا 8 864،000 میل ہے ، جو زمین کے قطر سے 110 گنا زیادہ ہے۔ جب بات بڑے پیمانے پر کی جائے تو ہمارا ستارہ زمین سے 330،000 گنا زیادہ وسیع ہے۔
سورج کی سطح بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنی ہے۔ اس میں ہائیڈروجن کا تناسب تقریباً 74% بلحاظ کمیت یا 92% بلحاظ حجم اور ہیلیم کا تناسب تقریباً %24 بلحاظ کمیت یا %7 بلحاظ حجم ہے۔سائنسدان جانتے ہیں کہ سورج سے نکلنے والی برقی ذرات کی بوچھاڑ اور اس کے ساتھ پیدا ہونے والے مقناطیسی دائرے ہمارے مصنوعی سیاروں اور خلابازوں کو متاثر کرنے کے علاوہ زمین کے ارد گرد ریڈیائی لہروں میں گڑبڑ پیدا کرتے ہیں، بلکہ ہمارے بجلی کے نظام کو بھی بند کر سکتے ہیں۔سورج پر ہونے والی حرکت یا ایک مستقل طوفان کی سی کیفیت کی بہت مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں۔ سورج پر پائے جانے والے دھبے بہت زیادہ مقناطیسیت کے حامل ہوتے ہیں جو زمین سے دیکھیں تو سیاہ دھبوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔سورج کی شعائیں یا بنفشی شعاعیں زمین کی طرف منعکس ہوتی ہیں اور سورج کی سطح سے اٹھنے والے شعلے اربوں ٹن ’چارج پارٹیکلز‘ (یا برقی ذرات) خلاء میں بکھیر دیتے ہیں۔
سورج پر ہونے والا یہ ارتعاش ہر گیارہ برس میں کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ یہ سورج پر ارتعاش کی انتہا یا عروج کا زمانہ ہے جسے سائنسی اصطلاح میں ’سولر میکسیمم‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت سورج پر غیر معمولی ٹھراؤ ہے اور وہ سرگرمی نہیں ہے جو عام طور پر ہونی چاہیے تھی۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box