گناہوں سے پچھتا کر سچے دل سےخدا کی طرف مائل ہونا ۔کی گئی سر کشیوں سے باز آنا اور طریقِ بندگی کی طرف پلٹ آنا ،توبہ ہے۔قرآنِ مجید میں توبہ کا لفظ اللہ اور بندے دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔توبہ گناہ کو اس طرح زائل کر دیتی ہےگویا گناہ سر زد ہوا ہی نہیں۔مشکواة کی حدیث کے مطابق رسول ﷺ نے فرمایا۔ لوگو ، اللہ کی درگاہ میں توبہ کرو،میں دن بھر میں سو بار خدا کی درگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک نزع سے اس کا نرخرہ نہ بولنے لگے۔ جو بندہ عذاب سے ڈر کر توبہ کرے وہ صاحب توبہ ہے۔جو حصول ِ ثواب کے لئے توبہ کرے وہ صاحبِ انابت ہے۔جو اللہ کی اطاعت اور پابندی احکام کے لئے توبہ کرے۔ وہ اوّاب ہے۔توبہ کرنے کے بعد گناہ کو فی الفور چھوڑ دے۔آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے اور پھر گناہ کے مرتکب ہونے پر پچھتاتا رہے۔امام غزالی ؒ کہتے ہیں کہ توبہ ہر مومن پر علی الفور
تادمِ مرگ واجب ہے کیونکہ کئی بشر معصیّت سے خالی نہیں اور معاصی نفس ِایمان کے لئے مہلکات ہیں۔توبتہ النصوح یہ ہے کہ انسان دل سے نادم ہو۔ زبان سے استغفار کرے۔جسم کو گناہ سے قطعاً روکے اور نیت کرے کہ آئندہ پھر اس گناہ کا ارتکاب نہ کروں گا۔آؤ ہم عہد کریں کہ گناہوں سے بچیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box