صفائی کا مطلب ہے ہمارے جسم ، دل، دماغ ، روح اور ہمارے آس پاس کی تمام چیزوں کو صاف ستھرا رکھنا ۔صفائی انسانی زندگی کی سب سے اہم خوبی ہے ۔ یہ ہمیں بےشمار بیماریوں سے بچاتی ہے ۔اپنے آس پاس کی جگہوں کی صفائی پر مکمل دھیان دینا بیحد ضروری ہے ۔ جہاں ہم کام کرتے ہیں اور جہاں ہم رہتے ہیں ان دونوں جگہوں پہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا روزمرہ کی عادتوں میں شامل کر لیجیے ۔
ہمارے پیارے دین ”اسلام“ میں صفائی ستھرائی کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔صفائی ستھرائی کی اسلام میں اہمیت: صفائی ستھرائی کی اہمیت پر تین فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ ہوں۔
1۔پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ (مسلم،ص140،حدیث:223)
2۔بےشک اسلام صاف سُتھرا (دِین) ہے (جبکہ ایک روایت میں ہے کہ اللہ پاک نے اسلام کی بنیاد صفائی پر رکھی ہے تو تم بھی نَظافَت حاصل کیا کرو کیونکہ جنّت میں وہی شخص داخل ہوگا جو ظاہر و باطن میں صاف ستھرا ہوگا مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی ،وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں عبادت
کرو۔اس میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ طہارت اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(سورہ دوسرے مقام پر اللہ فرماتا ہے:سورة البقرة آیت نمبر223.
بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور طہارت اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
پیارے آقا نبی آخر الزماں سیدنا محمد مصطفیﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔
متعدد احادیثِ مبارکہ میں صفائی کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اللہ تعالٰی پاک ہے، پاکی پسند فرماتا ہے،ستھرا ہے، ستھرا پن پسندفرماتا ہے لہٰذا تم اپنے صحن صاف رکھو اوریہودسے مشابہت نہ کرو۔(ترمذی،ج4،ص325،حدیث:2808)حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ طہارت نماز کی کنجی ہے۔اور نماز جنت کی کنجی ہے
ہرمسلمان پر اللہ کا حق ہے کہ سات دنوں میں ایک ایسا دن ہوکہ جس میں وہ اپنے سر اور بدن کو غسل دے۔جسم کی صفائی کا بھی خیال رکھیں ۔ روزانہ نہائیں ۔اور اپنے جسم کو گندگی سے پاک کریں ۔ناخنوں کو بڑھنے مت دیں کیونکہ ناخنوں میں جمنے والے میل سے انیک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔ کھانا ہمیشہ ہاتھ دھو کر کھائیں ۔
اگر میرا یہ حکم امت پر گراں نہ ہوتاتو میں انھیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے (دانتوں کی صفائی) کاحکم دیتا۔
جس کسی کے بال ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کرے۔
کھانا کھانے کی سنتوں میں ہاتھ دھونا بھی شامل ہے یعنی سب سے پہلے صفائی کا خیال رکھنے کا حکم ہے۔
صاف ستھرے انسان کو ہرکوئی پسند کرتا ہے جبکہ گندے شخص سے ہرکوئی دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ صفائی کے لئے لباس کا نیا یا مہنگا ہونا شرط نہیں بلکہ صرف صاف ستھرا ہونا ضروری ہے۔صفائی ستھرائی انسان کو بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ ساری دنیا میں احتیاطی تدابیر کا بنیادی فلسفہ اور خلاصہ بھی صرف اور صرف صفائی ہے۔
گندگی سے وائرس اور جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box