اللّہ تعالٰی نے رسول پاکﷺ کی شروع سے آخر تک بھر پور مدد کی۔جب آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو کافرں نے آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن جب آپ ﷺ نے گھر سے ہجرت فرمائی تو کافروں کو علم نہ ہوا کہ آپ ﷺ کس وقت روانہ ہوئے۔جب آپﷺ حضرت ابوبکر کے ساتھ غارِ ثور میں موجود تھے۔تو یہ نصرت الٰہیہ کا کرشمہ تھا کہ کفار بر سرے غار کھڑے ہیں اور اتنے قریب ہیں کہ اگر ذرا جھک کر دیکھ لیں تو غار کی اندرونی حالت دیکھ سکیں، مگر نصرت ربانی کام کر رہی ہے۔ یہ لوگ منہ پر آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے ہو گئے جیسا کہ سورہ توبہ آیت نمبر 40 میں ہے۔
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدۡ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذۡ اَخۡرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثۡنَیۡنِ اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفۡلٰی ؕ وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الۡعُلۡیَا ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۰﴾
اگر تم ان ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے ( دیس سے ) نکال دیا تھا دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں اس نے کافروں کی بات پست کردی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے اللہ غالب ہے حکمت والا ہے ۔
غار سے برآمدگی کے بعد مدینہ تک کا سفر بھی آسان نہ تھا۔یہ 300 میل کا سفر سینکڑوں دشمنانِ اسلام کے ذاتی انتقام نے مشکل بنا دیا تھا۔لیکن نصرت سبحانی سے یہ خوفناک سفر بخوش و اسلوبی طے ہو جاتا ہے۔یہ صرف امدادِ غیبی کی وجہ سے ہی ہوا۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box