سانپ کی قسمیں
زہریلے سانپ۔ دنیا میں سانپ کی تقریباً تین ہزار قسمیں ہیں۔صرف دو سو قسموں کے سانپ زہریلے ہیں۔سانپ کی آنکھ کے بالکل نیچے زہر کے غدود ہوتے ہیں۔ان غدودوں میں سے زہریلی پروٹین نالیوں کے ذریعے گزرتی ہے۔جب سانپ کسی جسم میں دانت گاڑتا ہے تو دانتوں کے ذریعے لعاب جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔زہر کی نوعیت اور مقدار سانپوں کی مختلف اقسام کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔زہر کا مقصد اپنے شکار کو بے بس کرنا ہےچاہے سانپ اپنی خوراک بنا سکے یا نہ بنا سکے۔زہریلے سانپ کے خاندان نیچے لکھے جاتے ہیں۔
1.سمندری سانپ۔ سخت زہریلے ہوتے ہیں۔ ان کا زہر شدید اثر کرنے والا ہوتا ہے۔یہ بڑی بڑی مچھلیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔سمندری سانپ کی دم چپٹی اور چپو کی طرح ہوتی ہے۔
2.افعی سانپ ۔اس سانپ کا شمار انتہائی زہریلے سانپوں میں ہوتا ہے۔اس کا زہر دانت میں منہ کی طرف ہوتا ہے۔ اس کی پھنکار زور دار ہوتی ہے اور انتہائی تیزی سے کاٹتا ہے۔
ابوجرس سانپ۔ اس سانپ کے نتھنوں اور آنکھوں کے درمیان ایک گڑھا ہوتا ہے۔جو حرارت کا حسی مرکز ہوتا ہے۔اس سانپ کے چلنے سے کھڑکھڑاہٹ اد کی دم کی زمین کے ساتھ رگڑ سے پیدا ہوتی ہے۔
صحرائی سانپ ۔ صحرائی سانپوں کی دو زہریلی قسمیں ہیں۔یہ سانپ ریت پر پہلو کے بل چلتا ہے۔ یہ 40 میٹر لمبا اور اس کے دانتوں کی لمبائی 5 ملی میٹر ہوتی ہے۔ اس سانپ کے زہت کی ترکیب بہت مضبوط ہوتی ہے۔اس لئے دوسرے جاندار اس سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔
ناگ سانپ۔ ناگ خاندان کے سب سانپ پھن دار نہیں ہوتے۔صرف کوبرا ناگ ہی پھن دار ہوتا ہے۔ناگ خاندان میں کنگ کوبرا انتہائی خطر ناک ہوتا ہے۔جب یہ کسی جسم میں زہر چھوڑتا ہے تو اس زہر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جس سے شکار پندرہ منٹ کے اندر ہلاک ہو جاتا ہے۔صرف دس منٹ کے اندر اگر طبی امداد مل جائے تع پھر بچنے کا موقع بہت کم ہوتا ہے۔
دیگر سانپ۔ جنوبی امریکا کا اجگر سانپ بارہ فٹ لمبا اور غیر زہریلا ہوتا ہے۔ افریقہ کا افعی سانپ اشتعال کے وقت اپنا بالائی حصہ پھلا لیتا ہے۔ انڈونیشیا ،ملایشیا ،سری لنکا اور ہندو ہندوستان دو فٹ لمبا سانپ پایا جاتا ہے۔ امریکا کا مونگا سانپ تین فٹ لمبا ہوتا ہے۔ہندوستان کا کوبرا ناگ چھ فٹ لمبا ہوتا ہے۔یورپ اور ایشیاء کا چھ فٹ لمبا سانپ گھاس میں چھپ کر رہتا ہے۔یورپ اور مشرقِ وسطی کا کوڑیا سانپ چار فٹ لمبا ہوتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box