حج کی معلومات
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔
حج کی تین اقسام ہیں، حج قران، تمتع اور حج افراد
ذوالحجہ کے مہینے 8 سے 12 تاریخ کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کی زیارت کے لیے حاضر ہو کر وہاں جو مخصوص عبادت انجام دیتے ہیں، اس مجموعہ عبادات کو اسلامی اصطلاح میں حج اور ان انجام دی جانے والی عبادات کو مناسک حج کہتے ہیں۔
یہ عبادت ہر سال ذی الحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو مکہ مکرمہ میں ادا کی جاتی ہے، ذی الحجہ کی 8 تاریخ سے حج کے ارکان شروع ہو جاتے ہیں۔
حج کے فرائض
حج کی نیت کرکے احرام باندھنا
وقوف عرفہ یعنی میدان عرفات میں قیام کرنا
طواف زیارت یعنی خانہ کعبہ کے 7 چکر لگانا
سعی یعنی صفا اور مروہ کے درمیان 7 بار چکر لگانا
مکہ پہونچنے کے بعد عمرہ ادا کرنے اور حلق و قصر کے بعد احرام کھول سکتے ہیں۔ پھر ایام حج یعنی 8 ذوالحجہ (یا اس سے قبل) احرام پہنتے ہیں، پھر حج کے تمام مناسک وقوف عرفہ، طواف افاضہ اور سعی وغیرہ مکمل کرتے ہیں۔ جو یہ حج کرے وہ حاجی متمتع کہلاتا ہے۔
ایک احرام: دل سے حج کی نیت کرکے مکمل تلبیہ پڑھنا۔
دوسرا وقوف عرفہ : نویں ذی الحجہ کو زوالِ آفتاب کے بعد سے لے کر دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق کے درمیان میدانِ عرفات میں ٹھہرنا، چاہے کچھ ہی دیر کے لیے ٹھیرے۔یہ رکنِ اعظم ہے، اگر کسی نے وقوفِ عرفہ نہ کیا، اس کا حج ہی نہیں ہوگا، چاہے دم ہی کیوں نہ دے دے۔
تیسرا طواف زیارت، جو کہ وقوفِ عرفہ کے بعد کیا جاتا ہے، (جب تک حاجی طوافِ زیارت نہ کرلے اس کا حج مکمل نہیں ہوتا اور بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہوتی، اس کا وجوبی وقت دسویں ذی الحجہ کے سورج طلوع ہونے سے لے کر بارہویں ذوالحجہ کا سورج غروب ہونے تک ہے، وقتِ مقررہ کے دوران طواف نہ کرنے کی صورت میں دم لازم ہوتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box