آم پھلوں کا بادشاہ











 

  آم ہندوستان، پاکستان اور فلپائن کا قومی پھل ہے،جبکہ آم کا درخت بنگلہ دیش کا قومی درخت ہےآم دنیا کے چند پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا آبائی وطن جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا ہے۔ لیکن یہ دنیا کے تمام استوائی علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس کا گودا کھایا جاتا ہے۔

آم گرم علاقوں میں پیدا ہونے والا رس دار اور گودے دار پھل جو مختلف رنگ و بیضوی شکل میں نظر آتا ہے۔ اسے پکنے پر کھایا جاتا ہے اور کچے میں اس کا اچار بنایا جاتا ہے۔  اور برصغیر میں اس کوپھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔آم کی کوئی بھی قسم ہو، یہ عام آدمی سے لے کر خواص تک، سب کے دل خوش کرتا ہے۔ آپ خود کسی بھی آم کے ٹھیلے کے قریب سے گزر کر دیکھ لیں۔ خاص الخاص آموں تو کو چھوڑ دیں اگر طوطا پری، سفیدہ، لال بادشاہ اور نیلم کی مخصوص خوشبو، ذائقہ اور رنگت آپ کے منہ میں پانی نہ لے آئے تو کہیں۔

 اس کی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اقسام ہیں۔پاکستان میں آم کی جو اقسام اگائی جاتی ہیں وہ دنیا بھر میں مقبول ہیں

اس کی مختلف اقسام اور رنگ ہوتے ہیں۔ بہت قسمیں پھپھوندیوں سے محفوظ رہتی ہیں، اور بہت جلدی خراب نہیں ہوتی ہیں۔

برصغیر میں آم کی 300 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سندھڑی، ثمر بہشت، چونسہ، دسہری، انور رٹول، لنگڑا، فجری، مالٹا، سفید چونسہ، کالا چونسہ ،گلاب خاصہ، زعفران، الماس اور سرولی مشہور ہیں۔

پاکستان میں عام طور پر آم گرم علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں اور لاتعداد فوائد مہیا کرتے ہیں، جیسے پتے، چھال اور یہاں تک کہ ان کی گٹھلی اور جلد بھی مختلف کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔ 

جنوبی ایشائی ممالک میں تقریبا پونے دو کروڑ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں جو دنیا کی سالانہ پیداوار کا 40 فیصد ہیں لیکن دنیا بھر میں برآمد کیے جانے کے معاملے میں یہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آم کو اپنے ہی ملک میں استعمال کر لیا جاتا ہے۔


آم کے فوائد

۔1 آم جلد کے لیے اچھا ہے

۔2 موٹاپے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے 

۔3 آم کا استعمال لو لگنے سے محفوظ رکھتا ہے

۔4 کینسر کے مریضوں کو آم کے پھل کا استعمال کرنا چاہیے

۔5 بینائی کو تیز کرنے میں مدد کرتا ہے 

۔6 ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے

۔7 قوت مدافعت میں بہتری آتی ہے

۔8 کولیسٹرول کے توازن کو ٹھیک رکھتا ہے

۔9 انیمییا کی بیماری میں مفید ہے

 ۔10 دمے کی بیماری میں استعمال کرنا چاہیے

۔11 قبض سے بچاتا ہے۔


تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی