اسلام میں مزدور کے حقوق


 اِسلام نے مزدور و مالکان کے حقوق و فرائض کو بھی واضح طور پر بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے.اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہ کریں

 محنت و مزدوری کرنے کو سماج میں عموماً گھٹیا عمل تصور کیا جاتا ہے اور محنت کشوں کو عزت کا مقام نہیں دیا جاتا، عزت صرف سفید پوش پیشہ وروں  کو ہی دی جاتی ہے۔اسلام نے دنیا والوں کو محنت کی عظمت کا تصور ساتویں صدی عیسوی کے اوائل (610 – 632 AD) میں ہی دیا کیونکہ یہی نزول قرآن کا زمانہ ہے۔اسلام نے   مزدوروں کو آج سے چودہ سو سال پہلے حقوق عطاء فرما دیے تھے۔

  قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ تمھیں وہی کچھ ملے گا جس کی تم نے محنت کی یعنی انسان کی سعی و کوشش ہی اسے بہتر سے بہتر اجر کی مستحق قرار دیتی ہے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اسلام نے آجر اور اجیر کے حقوق و فرائض کا جس فطری انداز میں تعین کیا ہے۔

چنانچہ’’نبی پاک ؐکا ارشاد پاک ہے جس

حضرت عبداﷲ ابنِ عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''مزدور کو اُس کی مزدوری اُس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ماتحتوں سے بدخلقی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوسکتا (ترمذی)

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ملازم اگر ستر بار غلطی کرے تب بھی اسے معاف کر دو‘‘

محنت کی عظمت بیان فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا

اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے، جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کماکر کھاتا ہے۔ ( مشکٰوۃ )

  حضورﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ قیامت کے روز تین آدمی ایسے ہوں گے جن سے میں جھگڑا کروں گا، ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر معاہدہ کیا اور پھر اس آدمی نے اس عہد کو توڑ دیا۔یعنی بدعہدی کی، دوسرا وہ شخص جس نے کسی شریف اور آزاد آدمی کو اغواء کرکے اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت کھائی، تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور کو مزدوری پر محنت کیلئے مقرر کیا، پھر اس سے پورا کام لیا اور کام لینے کے بعد اس کو اس کی مزدوری ادا نہیں کی، یا اس کی محنت اور مشقت کے برابر اس کی اجرت ادا نہ کی۔

  اِسلام نے مزدور و مالکان کے حقوق و فرائض کو بھی واضح طور پر بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہ کریں۔حضورؐ نے پیغمبروں کا سردار ہو کر مزدوری کی اور حضرت داؤد علیہ السلام بادشاہ ہو کر مزدوری کرتے رہے ہیں۔ وہ زرہیں بناتے تھے اور زرہوں کی کمائی پر گھر کا خرچہ چلتا تھا، شاہی خزانے سے لینا ان کا حق تھا لیکن وہ اس سے نہیں لیتے تھے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ ہم نے بطور خاص ان کو ایک ہنر سکھایا تھا ’’علمنٰہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم‘‘ ہم نے داؤدؑ کو زرہیں بنانا سکھایا تھا۔ زرہیں بنا کر بیچتے تھے اور گھر کا خرچہ چلاتے تھے۔ یعنی بنی اسرائیل کے بڑے خلیفہ حضرت داؤدؑ مزدوری کرتے رہے۔محنت کی عظمت:محنت و مزدوری اللہ کے نبیوں کی سنّت ہے۔ کم و بیش تمام انبیائے کرام نے مزدوری کو اپنا معاش بنایا۔ حضرت آدمؑ نے زمین کاشت کرکے غلّہ حاصل کیا۔ حضرت نوح،ؑ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ حضرت دائود ؑ زِرہ ساز تھے اور اپنے ہاتھ کے ہنر سے گزربسرکرتے۔ حضرت ادریسؑ درزی کا کام کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے10سال تک حضرت شعیبؑ کی بکریاں چَرائیں۔ پیارے نبیؐ اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بکریاں چَرائیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ’’اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا، جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔‘‘ صحابہ کے استفسار پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’میں بھی مکّے والوں کی بکریاں چند قیراط پر چَرایا کرتا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری) مسجد نبوی ؐ کی تعمیر کے دوران سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم خود اینٹیں اور پتھر اٹھا کر لاتے۔

   اسلام میں محنت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے ایک حدیث پاک میں ارشاد فرمایا گیا جس کا مفہوم ہے کہ ’’کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا اور اللہ کے نبی دائود ؑ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے‘‘۔نبی اکرم ؐ نے ایک اور مقام پر فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ’’اپنے ملازموں (غلاموں محنت کشوں)کو وہی کھلائو جو خود کھاتے ہو اور ان کو وہی پہنائو جو خود پہنتے ہو‘‘۔آجر کے لیے اسلامی اصول یہ ہے کہ وہ کام کی نوعیت بتاکرمزدور سے اس کی مزدوری پہلے طے کرلے پھر کام پر لگائے۔ اس میں آجر اور اجیرکے مابین بعدمیں پیدا ہونے والے تنازعات سے حفاظت ہے۔


حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (1703-1762ء) نے  ایک سو برس پہلے اپنی سب سے مشہور کتاب ’’حجۃ البالغہ‘‘ میں جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آجر اور اجیر کے باہمی تعلقات کی اہمیت اور انسانی معاشی مسائل کی نشان داِنسانی جسم کو راحت و آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ انسانی جسم کا فطری تقاضا بھی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے دن کو معاش کا ذریعہ بنایا تو تھکاوٹ دور کرنے کے لیے رات کو سکون اور راحت کے لیے پیدا فرمایا۔ اب اگر کوئی شخص زیادہ یا مسلسل کام ہی کرتا رہے اور کچھ وقت آرام نہ کرے تو پھر اس سے کئی نفسیاتی اور سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔ صحت خراب ہوجاتی ہےہی کردی تھی۔مزدوروں سے اُن کی طاقت کے مطابق کام لیا جائے، ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے کہ ان کے لیے کرنا مشکل ہوجائے۔ اِس سے مزدوروں سے معاہدہ کے برخلاف مقررہ وقت سے زاید کام لینے کی ممانعت کا بھی علم ہوتا ہے۔ کئی جگہوں میں آٹھ گھنٹوں کی بہ جائے بارہ بل کہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔عصر حاضر میں اسلامی معاشرے کو جن مشکلات سے گزرنا پڑھ رہا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ دین سے غفلت ہےمسلمانوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر مغربی دنیا کےطور طریقوں کو اپنا لیا ہےجبکہ اللہ تعالیٰ نےان کو مکمل شریعت عطاء کی اور قرآن میں تمام مسائل کا حل رکھ دیا اس کے باوجود مسلمان مسائل کے حل کے لیےبھٹک رہے ہیں۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی