حقیقی شہید کون ہوتاہے؟


 حقیقی   شہید وہ ہے جو اللہ کے راستے میںکافروں سے لڑتے  ہوئے  میدان جہاد میں کام آجائے اور اپنی جان قربان کردے۔‘‘ شہید کے لغوی معنی گواہ، حاضر ہونا، دیکھنا اور مطلع ہونا کے ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو شہید کہتے ہیں۔  اس بارے میں کئی اقوال ہیں ،جو احکام القرآن جصاص،احکام القرآن قرطبی اور دیگرمستند تفاسیر میں مذکور ہیں۔اسلام میں شہید کی عظمت اور شہادت کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے۔قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے۔

,, اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں۔ خدا کی طرف سے ملنے والے فضل و کرم سے خوش ہیں اور ابھی تک ان سے ملحق نہیں ہوسکتے ہیں ان کے بارے میں یہ خوش خبری رکھتے ہیں کہ ان کے واسطے بھی نہ کوئی خوف ہے اور نہ حزن۔ وہ اپنے پروردگار کی نعمت اس کے فضل اور اس کے وعدہ سے خوش ہیں کہ وہ صاحبان ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ۔ 

   شہید کے مقام اور شہادت کی عظمت کے حوالے سے امام الانبیاءﷺ کا یہ ارشاد سند کادرجہ رکھتا ہے۔حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں داخل ہوتا ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اسے دنیاکی ہر چیز دے دی جائے، مگر شہید (اس کا معاملہ یہ ہے)کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ واپس لوٹ جائے اور دس مرتبہ قتل کیا جائے۔ (راہِ خدا میں باربار شہید کیا جائے) (صحیح بخاری، صحیح مسلم، بیہقی)۔

  روایات میں آیا ہے کہ شہید کی سات خصوصیات ہیں :شہید کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گر جاتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے ۔

شہید کا سر حورالعین کی گود میں ہوتا ہے ۔

شہید جنتی لباس زیب تن کریں گے۔

شہید کو دنیا کی بہترین خوشبوؤں سے معطر کیے جائیں گے۔

شہید بہشت میں اپنے مقام کا نظارہ کریں گے ۔

شہید کو پوری بہشت کی سیر و تفریح کی اجازت دی جائے گی ۔

شہید کے سامنے سے پردے ہٹا دیئے جائیں گے اور شہید خدا کی زیارت سے مشرف ہوں گے۔حقیقی  اور کامل درجہ کا شہید تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں دین کی سربلندی کیلئے کافروں سے لڑتے  ہوئے  میدان جہاد میں کام آجائے اور اپنی جان قربان کردے لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معنوی طور پر اور بھی بہت سے لوگ اللہ کے یہاں شہادت کا مرتبہ پائیں گے اور وہ شہید کے درجہ میں ہوں گے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی تعداد بے شمار ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے  ایک حدیث اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ نے ایک مرتبہ دریافت فرمایا" تم لوگ شہید کس کو سمجھتے ہو؟ ۔"صحابہؓ نے عرض کیا  یا رسول اللہ(!) جو اللہ کے راستہ میں قتل کردیا جائے وہ شہید ہے۔ آپ نے فرمایا" پھر تو میری امت کے شہید بہت کم ہیں۔" صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ (!) پھر شہداء کون ہیں؟ آپ نے فرمایا "جو اللہ کے راستہ میں قتل کردیا جائے وہ شہید ہے اور جو اللہ کے راستہ میں انتقال کرجائے(طبعی موت مرجائے) وہ شہید ہے اور جو طاعون میں انتقال کرجائے وہ شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مر جائے وہ شہید ہے۔"(  مسلم  )۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی