کوہِ نور دنیا کا مشہور ترین ہیروں میں سے ایک ہے جو بادشاہوں کے تاج کی زینت رہا ہے۔ اس وقت تاج برطانیہ کی زینت ہے۔ کوہ نور کا مطلب ہے روشنی کا پہاڑ۔ ہیرے کا وزن 105 قیراط (21.6 گرام) انگریزوں کے پاس جانے سے پہلے ہیرے کا اصل وزن 37 گرام تھا ۔ تاہم برطانیہ کی طرف سے اس ہیرے کو بہتر شکل میں لانے اور چمک دھمک میں اضافے کے لئے اس کا سائز کچھ مختصر کردیا گیا ہے۔موجودہ صورت میں 105 قیراط کا ہیرا 21 گرام کا رہ گیا ہے۔کوہِ نور ایک بیش قیمت، بڑا اور اپنی نوعیت کا واحد ہیرا ہے جو اپنے آپ میں ایک الگ تاریخ رکھتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ ہیرا مردوں کے لئے نحوست اور موت کا باعث بنا ہے جبکہ عورتوں کے لئے خوش بختی کا سبب رہا ہے۔
روایات کے مطابق اس ہیرے کو چار ہزار سال پہلے بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی ایک کان سے نکالا گیا۔ مشہور راجہ بکرما جیت کی تحویل میں اس کا پتہ ملتا ہے ۔ بعد میں یہ کئی راجوں کی ملکیت رہا،پھر مشہور جنرل ملک کافور نے اسے حاصل کرکے سلطان علاؤ الدین خلجی کو پیش کیا۔ برسوں یہ خلجی خاندان کی ملکیت رہاپھر ابراہیم لودھی کے پاس اسکی خبر ملتی ہے جس کو شکست دے کر شہنشاہ ظہیرالدین بابر نے اسے اسکی ماں سے حاصل کیا۔
سولہویں صدی عیسوی میں سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا۔ 1526 میں پانی پت کی لڑائی میں فتح کے بعد پہلے مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر تک پہنچا۔ مغلیہ دور کے زوال کے دنوں میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ تخت طاؤس کے ساتھ یہ ہیرا بھی لے گیا۔
1849 میں برطانیہ کے پنجاب پر قبضہ کے بعد انگریزوں نے ہیرا راجہ رنجیت سنگھ کے نابالغ پوتے دلیپ سنگھ نے یہ ہیرا ملکہ برطانیہ کے حوالے کر دیا۔اب یہ ہیرا ملکہ برطانیہ کے تاج میں لگا ہوا ہے۔کوہ نور‘‘ ہیرے کی قیمت دس ہزار ارب روپے ہے ۔لیکن یہ بات اندازے کی حد تک ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box