پرندے


 پرندہ اڑنے والے اور پروں والے جانداروں کو کہتے ہیں۔ اسے طائربھی کہا جاتا ہے ۔

پرندے جماعت  طیور سے تعلق رکھنے والے گرم خون کے حامل دوپایہ انڈے دینے والے  فقاریہ جانور ہوتے ہیں۔ پرندہ کہنے کی ایک بڑی وجہ ان کے جسم پر موجود پََر ہیں، جن کی مدد سے یہ پرواز کرسکتے ہیں۔ ان کی تقریباً دس ہزار  انواع  ہیں۔ یہ   دنیا کے ہر علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی مختلف انواع پانچ سینٹی میٹر سے لے کر نو فٹ کی قامت میں پائی جاتی ہیں۔

  کائنات کے خالق نے یوں تو ہر چیز ہی بڑی خوبصورت بنائی ہے۔۔ اسکی تمام مخلوقات میں سب سے افضل تخلیق انسان ہے جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے ۔ دیگر مخلوقات کو بھی رب نے ایسی صلاحیتوں سے نوازہ ہے جن میں سے اللہ کی قدرت نظر آتی ہے۔

  غور کرنے والوں کے لیے رب کائنات کی تخلیق کے ہر ذرے میں حیرت اور علم پوشیدہ ہے اور رب کائنات کی کُچھ مخلوق ایسی ہے جو دیکھنے والوں کو غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

   ایک خطے سے دوسرے خطے کی جانب پرندوں کا سفر ہزاروں برسوں سے جاری ہے۔ ہزاروں میل کا یہ سفر اب ان کے جین میں شامل ہو چکا ہے۔ شاہد یہی وجہ کی ان کی نئی نسل جب پرواز شروع کرتی ہے تو وہ بھٹکے بغیر اسی مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں ان کے آباو اجداد آیا کرتے تھے۔کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ ہر سال کیوں لاکھوں پرندے سردیاں شروع ہوتے ہی برفانی علاقوں سے میدانی خطوں کی طرف پرواز شروع کر دیتے ہیں ۔وہ خوراک کی تلاش کے لیے ہزاروں میل کی پرواز کرتے ہیں۔

   جانوروں کو خدا نے انسان کی طرح سوچنے سمجھنے اور منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت تو نہیں دی، مگر ان کو کافی طاقتور حِسوں سے نوازا ہے۔ اور یہ حِسیں ہی ان کی زندگی کا بنیادی حصہ ہیں۔ جیسے سونگھنے، دیکھنے، سننے، خطرے کو پہچاننے کے لئے۔ مگر وہ جانور جو کہ انڈے دیتے ہیں ان کو خدا نے ایک اور حس سے نوازا ہے۔ یہ حس  اپنا گھر بنانے کی ہے۔مختلف پرندے اپنے ماحول سے مطابقت رکھتے ہوئے مختلف قسموں کے گھونسلے بناتے ہیں۔

   قرآن مجید میں تقریباً 35 حیوانات کا نام آیا ہے۔

   ,,قرآن مجید میں جن پرندوں اور حشرات کا نام آیا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔ بٹیر{بقرہ/57}، مچھر{بقرہ/26} ، مکھی{حج/73}، شہد کی مکھی {نحل68 ، مکڑی {عنکبوت/41}، ٹڈی {اعراف/133}، ہد ہد{نمل/27}، کوا{مائدہ/32}، ابابیل{فیل/3}، چیونٹی{نمل/18}، تتلی{قارعہ/4}، جوں{اعراف/133}۔

 بدلتے موسموں اور گرم ہوتے درجہ حرارت نے جہاں انسانوں کی زندگی دشوار بنا دی ہے وہیں جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی بے شمار خطرات پیدا کردیے ہیں۔آبادی میں بے تحاشہ اضافے کی ، جنگلوں کی کٹائی اور فصلوں پر کیڑے مار ادویات کی وجہ سے پرندوں کی تعداد میں کمی یا معدومی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی