جنات


 اسلامی عقیدے کے مطابق ایسی نظر نہ آنے والی مخلوق جس کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے۔اسلام سے پہلے بھی عربوں میں جنوں کے تذکرے موجود تھے۔

  جنات اللہ تعالی کی ایک مخلوق ہیں اور تمام انسانیت ان کی حقیقت کو مانتی ہے۔ جن کے معنی چھپا ہوا ہونا، غائب ہونا کے ہیں۔

قرآنی دلائل 

 2۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں۔

"اے جنوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے جو تم سے میرے احکام بیان کرتے تھے۔

 3۔بے شک وہ اور اس کا لشکر تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم اسے نہیں دیکھ سکتے ۔

4۔اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔  (قرآن: سورۃالرحٰمن14-15)

  صَلْصَالٍ‘ خشک مٹی کو کہتے ہیں اور جس مٹی میں آواز ہووہ فخار کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ مٹی جو آگ میں پکی ہوئی ہو اسے ”ٹھیکری“ کہتے ہیں اور اس سے پہلے ہم نے جنوں کو لو والی آگ سے پیدا کیا ۔

5۔جنات کو اس سے پہلے کہ وہ گرم ہوئے تھے پیدا کر چکے تھے۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے پیدا کیے گئے تھے۔’اور البتہ تحقیق ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے تھی پیدا کیا۔اور ہم نے اس سے پہلے جنوں کو آگ کے شعلے سے بنایا تھا۔ ۔(  قرآن: سورۃ الحجر:26-27)

6۔اور یہ کہ ہم میں سے بعض فرماں بردار بھی ہیں اور ہم میں سے بعض نافرمان بھی۔سورہ النمل آیت نمبر39۔ ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے  اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس لا دیتا  ہوں ،  یقین مانئے کہ میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت دار ۔

(سورہ النمل اآیت نمبر 40)جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں اس سے بھی پہلے میں اسے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں  جب آپ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے ،  تاکہ   وہ  مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ،  شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار  ( بے پروا اور بزرگ )  غنی اور کریم ہے ۔   

  احادیث مبار کہ میں ہے۔

 حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ  نے فرمایا۔فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور جنوں کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم علیہ السلام کی پیدائش کا وصف تمہیں بیان کیا گیا ہے۔

ابو ثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنوں کی تین قسمیں ہیں ایک قسم کے پر ہیں اور ہواؤں میں اڑتے پھرتے ہیں ۔ اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں اور ایک قسم آباد ہونے والے اور کوچ کرنے والے ہیں۔ (طحاوی: مشکل الآثار ، 4/95۔ طبرانی کبیر22/114 شیخ البانی مشکاۃ 206 نمبر 4148)۔

  اور ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بے انصاف ہیں  پس جو فرمانبردار ہوگئے انہوں نے تو راہ راست کا قصد کیا ۔ اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گئے ۔

جس زمین پر انسان زندگی گزار رہے ہیں اسی پر کچھ جن کی اقسام بھی رہتے ہیں اور ان کی رہائش اکثر خراب مثلا لیٹرینیں اور قبریں اور گندگی پھینکنے اور پاخانہ کرنے کی جگہ اور گندگی والی جگہہیں ہیں۔       جنوں اور ان کی خلقت اور طبیعت کے متعلق مختصر سا بیان تھا اور اللہ ہی بہتر حفاظت کرنے والا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی