ہلدی

ہلدی   ادرک خاندان کا ایک پودا ہے۔ یہ پاک و ہندو کا مقامی پودا ہے۔اس کا اصلی رنگ قدرتی زردی مائل ہوتا ہے اور اس میں زیادہ چمک دمک نہیں ہوتی۔ فی گرام ہلدی میں غذائیت کی مقدار کچھ یوں ہے۔ وٹامن سی 26 ملی گرام ،وائٹ مینائی 3.1 ملی گرام ،وٹامن کے 13.4 مائیکرو گرام ،کاربوہائیڈریٹس 65 گرام ،فائبر 21 گرام ،چکنائی 10 گرام ،پروٹین 8 گرام ،سوڈیم 38 ملی گرام ،پوٹاشیم 2.525 گرام ،میگنیشیم 193 ملی گرام ،کیلشیم 183 ملی گرام ،آئرن 41.45 ملی گرام ،فاسفورس 268 ملی گرام ،زینک 4.35 ملی گرام اور میگنیز 7.8 ملی گرام ۔ کیمیائی تجزیہ کے مطابق ہلدی میں پوٹاشیم، کیشیم، فاسفورس ، فولاد، ،سوڈیم کے علاوہ وٹامن "اے" ، "بی" اور "سی" بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ اس میں شامل پوٹاشیم دل اور بلڈ پریشرکو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہےاور اس میں شامل آئرن خون کے سر خ خلیوں کو بڑھاتا ہے۔خون کی کمی دور کرنے کے علاوہ یہ خون کو صاف بھی کرتی ہے۔ ہلدی:فائدے اور نقصانات ہلدی قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہے اور خراشوں، زخموں اور جلنے وغیرہ کے لیے مفید ہے۔ یہ ایک فوری مرہم کا کام کرتی ہے، خون کے لوتھڑوں کی روک تھام اور زخم پر لگانے کی صورت میں نئے خلیات کی افزائش میں مدد دیتی ہے۔ہلدی زہر سے پاک ہربل حل ہے جو کولیسٹرول لیول کو تیزی سے کم کرنے، زیادہ مؤثر اور طویل المعیاد بنیادوں پر شریانوں کی اکڑن یا بلاک ہونے سمیت امراض قلب کی روک تھام کرتا ہے۔ ہر فرد کا مزاج، بدنی ضروریات، فطری رجحانات، طبعی میلانات، روز مرہ کے معمولات اور استعمال کی جانے والی خوراک مختلف ہونے کے باعث امراض کی نوعیت،طبعی کیفیت اور ادویاتی ضرورت بھی الگ الگ ہوا کرتی ہے۔ یہ قدرتی اینٹی بائیوٹیک اور جراثیم کش دوا ہے۔ یہ اندرونی و بیرونی زخموں کو مدمل کرنے کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتی ہے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق ہلدی میں سو سے زیادہ کیمیکل کمپاونڈز موجود ہوتے ہیں جو بہت سی بیماریوں کے لیے شفا رکھتے ہیں خاص طور پرکرکونم کمپاؤنڈ جو ہلدی کو خوبصورت پیلا رنگ دیتا ہے ایک انتہائی مفید آرگینک کیمیکل ہے جو کینسر جیسے موذی مرض کو پیدا نہیں ہونے دیتا ہلدی میں بیشمار اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتے ہیں جو تحقیق کے مطابق سو سے زائد کینسر کی بیماریوں کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کینسر زدہ سیلز کا خاتمہ بھی کرتے ہیں۔ انسان کے جسم اور دماغ میں ہونے والے تقریباًتمام عوامل ہارمونز کی وجہ سے ہوتے ہیں یہ ہارمونزنظام انہضام سے لیکر مسل بنانے نروس سسٹم کو درست رکھنے سونے اور جاگنے اور انسان کے مُوڈ کو درست رکھنے میں کام کرتے ہیں اور صحت مند جسم کو قائم رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں ہلدی کے اندر موجود کیمیکل کمپاونڈز خون کو صاف کرتے ہیں اور ان ہارمونز کا بیلنس درست رکھتے ہیں ۔ گردے کے مسئلے کے لئے ہلدی زہر بھی ہے۔ گردوں سے متعلقہ مسائل کے ساتھ لوگ کم ہلدی کھاتے ہیں کیونکہ آکزیلیٹس ان میں موجود ہیں جو گردے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔کھانے کو ہضم کرنے کے لئے، ہلدی کبھی بھی اس طرح سے استعمال نہیں کیا جاتا ہے، اور کھانے کے فورًا بعد، ہلدی دودھ نہ پیئیں ۔ ہلدی میں موجود کرکیومین گیس اور اسیڈیٹی کا مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں، جن کا ہاضمہ کمزور ہے وہ اسے ہلدی نہیں کھانی چاہییے۔ حیض کے دوران ہلدی کا استعمال کم کیا جانا چاہئے کیونکہ خون پتلاہوتا ہے ، جس سے دوران حیض زیادہ خون بہہ جانے کا خدشہ ہے۔ اس لئے حیض کے دنوں میں ہلدی سے بالکل ہی دوری بنا کر رہیں ۔ ہلدی میں ایک جزو کرکومن بہت اہم ہے یہ بہت سی اقسام کے کینسر روکنے میں مددگار ہے۔ یہ بڑی آنت، پروسٹیٹ، پھیپڑے، جگر معدے، سینہ، بیضہ دانی اور دماغ کے سرطان، رسولی میں خون کی نئی رگیں بننے کا عمل روک دیتا ہے۔ ہلدی جسم میں دوران خون کی روانی بہتر بناتی ہے۔ خون کو پتلا کرنے والی قدرتی دوا ہے۔ ماہرین صحت کینسر کے علاوہ ہلدی کو جوڑوں کے درد میں بھی مفید بتاتے ہیں۔ ہلدی بہترین جراثیم کش ہے، زخموں کے علاج کا قدرتی ذریعہ ہے۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی