ZIKKR AHL-E-EMAN KA ZAAD-E-RAH HAI.


 ذکر اہلِ ایمان کا زادِ راہ ہے۔ذکر ہی وہ پانی ہے جس سے ،جس سے دل کی آگ بجھائی جا سکتی ہے۔ذکر ہی وہ دوا ہے،جس سے باطن کا روگ دور کیا جا سکتا ہے۔قرآن میں اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ مسلمانوں!اللہ تعالٰی کا ذکر بہت ‌‌زیادہ کرو ۔  قرآن میں سورة المنافقون میں ہے۔

اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں  اور جو ایسا کریں وہ بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں ۔ 

فلاح و نجات کثرتِ ذکر میں ہے ۔اللہ کا ذکر بہت بہت کیا کرو کہ تم فلاح پاؤ۔اہلِ ذکر کی سورہ احزاب میں مدح و ثنا بیان کی گئی ہے۔

  بیشک مسلمان مرد اور  مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ،  عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں ،  خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں ،  روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنی والی عورتیں ،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں ،  بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں  ( ان سب کے )  لئے اللہ تعالٰی نے  ( وسیع )  مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔حکمِ نماز پر غور کرو۔

جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے  اور نماز قائم کریں  یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے  بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے  تم  جو کچھ  کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔ پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو  اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو ۔  حَدَّیث صحیح مسلم میں اہلِ ذکر کے متعلق رسول  ﷺ نے فرمایا

 ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ،  کہا : یہ احادیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ،  پھر انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ،  ان میں سے ایک یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا :   اللہ تعالیٰ نے فرمایا :   جب بندہ ایک بالشت  ( بڑھ کر )  میرے پاس آتا ہے تو میں ایک ہاتھ  ( بڑھ کر )  اس کے پاس جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ  ( بڑھ کر )  میرے پاس آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر  ( بڑھ کر )  اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر وہ دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر بڑھ کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں ،  اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہوں ۔انسان کو چاہیئے کہ وہ اللہ کے ذکر سے اپنی زبان کو ترو تازہ رکھے۔رسول ﷺ نے ذکر کی محفلوں ،مجلسوں کو کو چمن ہائے بہشت کہا ہے۔مسلمانو ذکر کے تین مراتب ہیں۔ذکر غفلت و نسیان کو ختم کر دیتا ہے۔ذکر قیود سے چھڑا کر شہود تک پہنچا دیتا ہے۔ذکر سے انسان اپنی یاد کو بھلا کر ذکر حقانی کے ساتھ وابستہ و زندہ کر دیتا ہے۔وہ انسان بہت خوش نصیب ہے،جسے ذکرِ رباّنی  نے اپنا فریفتہ بنا لیا ہو۔خوش قسمت ہے وہ انسان جس نے فنائے عالم کا سبق بقائے ربِ العالم سے سیکھ لیا ہو۔ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے۔اس کی مثال زندہ کی سی ہے اور جو ذکر نہین کرتا اس کی مثال مردہ کی سی ہے۔ہمیں ہر وقت اللہ کی یاد میں وقت لگانا چاہئے۔اسی ذات کا ذکر کرنا چاہئیے۔





تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی