آم کو پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔پھلوں کا بادشاہ آم وہ پھل ہے جسے دنیا بھر میں انتہائی شوق سے کھایا جاتا ہے ۔رس سے بھرے، میٹھے میٹھے، بھینی خوشبو والے، پکے ہوئے، پیلے پیلے لذیذ آم ہر ایک کو پسند آتے ہیں۔ آم کے ذائقے میں دو چیزیں ایک ساتھ ہوتی ہیں۔ آم کے ایک تو آم میں آم پن ہونا یعنی ایک خاص ذائقہ جو اسے دوسرے پھلوں سے ممتاز کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ آم کی مختلف قسم کا خاص ذائقہ جو اسے دوسری اقسام کے آم سے الگ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آم کی ایک مٹھاس ہوتی ہے جو اپنی اقسام کے ساتھ مختلف ہوتی ہے۔آم ہر دل عزیز پھل ہے۔آم دنیا کے چند پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا آبائی وطن جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا ہے۔ جنوبی ایشائی ممالک میں تقریبا پونے دو کروڑ ٹن آم پیدا ہوتے ہیں جو دنیا کی سالانہ پیداوار کا 40 فیصد ہیں۔ یہ دنیا کے تمام استوائی علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس کا گودا کھایا جاتا ہے۔ مختلف ممالک اور خطے میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ پھلوں کا بادشاہ ذائقہ سے بھرپور اور انتہائی میٹھا ہوتا ہے جس میں وٹامن اور معدنیات کثرت سے پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔آم کا انتظار ہمیں سارا سال ہوتا ہے اور یہ پھل ہر طرح سے کھایا جاتا ہے۔یہ خوراک کا نہایت اہم جزو اور ہر گھر میں استعمال ہونے والا قدرتی عطیہ ہے۔ آم ہر دل عزیز پھل ہے۔ یہ گرم علاقوں میں پیدا ہوتا ہے، لیکن پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے۔ اس لذیذ پھل کے بہت فائدے ہیں۔آم کھاے سے خون پیدا ہوتا ہے۔ دبلے پتلے لوگوں کا وزن زیادہ ہوتا ہے، پیشاب کھل کر آتا ہے۔ جسم میں چستی آتی ہے۔ آم کو نظام قوت مدافعت مضبوط کرنے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہےآم دماغی صحت بہترین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، اس میں وٹامن بی 6 وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ دماغی صحت کی بہتری کے لیے مفید ہے۔آم میں ایسے اجزا بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف ہاضمے کے نظام کو درست اور فعال رکھتے ہیں، بلکہ بدہضمی اور تیزابیت کو بھی ختم کرتے ہیں۔آم میں فولاد بھی ہوتا ہے، اس لیے یہ خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔آم کی گٹھلی سے نسوانی بیماریاں دور کرنے کی دوا بنائی جاتی ہے۔ذیابیطس کے مریض کا اگر آم کھانے کو جی چاہے تو اس کی قاشیں کھا سکتا آم میں چینی کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے اسلئے اسے کثرت سے کھانا خون میں شوگر کی سطح میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔۔آم کھانے سے قوتِ مدافعت بڑھتی اور اضمحلال و افسردگی دور ہو جاتی ہے۔ اس میں موجود حیاتین الف بینائی کو بہتر کرتی ہے۔ آنکھوں سے بہتے پانی کو روکتی اور خارش کو ختم کرتی ہے۔آم میں موجود وٹامن اے بال اور جلد کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے جب کہ اس میں وٹامن سی بھی موجود ہوتا ہے جو کہ جھریوں اور قبل از وقت بڑھاپے سے بھی بچاتا ہے۔آم بالوں کیلئے بھی مفید ہے کیونکہ اس میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو بالوں کی نشوونما اور جسم کے ٹشوز کیلئے بہترین ہیں۔یہ چہرے کی جلد اور بالوں کو خوبصورت اور دلکش کرنے میں مدد دیتا ہے۔۔ کچا آم تپ دق، ہیضے اور پیچش کے خلاف جسم میں مزاحمت کرنے والی قوت کو بڑھا دیتا ہے۔ ان سارے فائدوں کے باوجود کچا آم زیادہ نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ اس میں ترشی زیادہ ہوتی ہے۔ کچا آم کھانے کے فوری بعد پانی نہیں پینا چاہیے، ورنہ گلے میں خراش، پیٹ میں درد یا بدہضمی کی شکایت ہو سکتی ہے۔کچے آم جب ان میں گٹھلی نہ بنی ہو خشک کرکے سفوف بنا کر چینی ملا کر ایک تولہ روزانہ ہمراہ پانی کھانے سے سیلان منی اور سرعت انزال کی مرض دور ہوجاتی ہے۔ آم میں 20 سے زیادہ وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے، پوٹاشیم، فولیٹ (وٹامن بی کی ایک قسم) بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ریشہ بھی پایا جاتا پاکستان میں پھلوں کے بادشاہ آم کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔۔ملک میں آموں کی دو سو سے زائد اقسام ہیں۔آموں کی مشہور اقسام میں سندھڑی، نیلم، چونسا، انور رٹول، دوسہری، بیگن پھلی، انفانسو، گلاب خاصہ، زعفران، لنگڑا، سرولی، اور دیسی آم شامل ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box