کامیاب زندگی کے راز


 ہم کچھ کیے بغیر کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ زندگی میں کامیابی کی قیمت، مسلسل جدوجہد کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ صرف اور صرف ایک صحت مند جسم ہی بے پناہ توانائی کے ساتھ کام کر سکتا ہےاللہ تعالی نے ہم میں سے ہر ایک کو بے پناہ تخلیقی قوت عطا کی ہے.ہمارے ہاں ایک کامیاب زندگی کا ذکر جیسے ہی آتا ہے تو ذہن فوراً مال دار لوگوں کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک طرف غربت بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف امراء کی تعداد میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔کامیابی_کیا_ہے؟ 


کامیاب زندگی کا راز اور کامیابی کے سنہری اصول


دنیا میں تقریبا ہر فرد کامیابی کی  خواہش رکھتا ہے اور کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ کسی کے نزدیک مال و دولت حاصل کرنا کامیابی ہے تو کسی کے نزدیک عزت و شہرت، کوئی ذہنی سکون اور اطمینان قلب کو کامیابی قرار دیتا ہے تو کوئی خوشی اور اچھی صحت کو، کسی کے نزدیک محبت کا حصول کامیابی ہے تو کوئی اقتدار کو کامیابی کی علامت سمجھتا ہے۔آپ نے اکثر  لوگوں کو یہ کہتے تو سنا ہی ہوگا کہ فلاں شخص بڑی کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ مگر ”کامیاب زندگی“ کامعیار کیا  ہے؟ کیا کامیاب اور ناکام زندگی کے درمیان کوئی لکیر کھینچی جاسکتی ہے؟  کیا کامیاب لوگ ہمیشہ خوش رہتے ہیں؟


کوئی اچھی فیملی کو کامیابی کی علامت قرار دیتا ہے تو کوئی اپنے پیشے میں عروج حاصل کرنے کو کامیابی کہتا ہے، کسی کے نزدیک اپنی پسند کے مطابق زندگی بسر کرنا کامیابی ہے تو خوف، پریشانی اور ٹینشن سے نجات والی زندگی کو کامیابی سمجھتا ہے۔ کسی کے نزدیک عزت نفس کامیابی ہے تو کوئی مالی بے فکری کو کامیاب گردانتا ہے، کوئی اعلیٰ تعلیم کو کامیابی سمجھتا ہے تو کوئی اپنے مقصد میں سرخرو ہونے کو کامیابی کہتا ہے۔


کسی کے نزدیک جیت کامیابی ہوتی ہے تو کوئی کسی اور کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرینے کو کامیابی کہتا ہے۔ الغرض اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہر شخص کے لیے کامیابی کا الگ زاویہ ہوتا ہے اور ہر بندہ اپنی خواہش میں سرخرو ہونے کو کامیابی سمجھتا ہے۔


لوگوں کی اکثریت مالی خوش حالی اور دولت چاہتی ہے۔ عموماً کامیابی کے ساتھ دولت خودبخود چلی آتی ہے۔ انسانی کامیابیوں اور خوشی میں دولت کا کردار اہم ہے۔ دولت اگرچہ خوشی میں اضافہ کرتی ہے مگر یہ مستقل طور پر خوشی کی وجہ نہیں بن سکتی۔


ہر فرد کو خوشی اور سکون مختلف انداز سے حاصل ہوتا ہے اور ہر فرد کا مقصد حیات بھی مختلف ہوتا ہے، لہذا ہر فرد کے لیے کامیابی کا مفہوم بھی مختلف ہے۔ ایک فرد علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو دوسرا دولت، کوئی عزت و شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی اقتدار۔ اب چونکہ ہر شخص کے لیے کامیابی کااپنا معیارہے تو ایسے میں کیسے ہر شخص کی مدد کی جائے۔


پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کی  تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ وہ کون سے اصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر آپ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، چاہے آپ کے لیے کامیابی کا معیار کچھ بھی ہو۔مختصر یہ کہ کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنے والے افراد کوئی  خاص مقصد حاصل کرنے تک خوشی کا انتظار نہیں کرتے بلکہ وہ اس کیلئے جس محنت و لگن سے کام کرتے ہیں وہی ان کی خوشی کا راز ہوتا ہے۔ اور پھر جب انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو انہیں مزید ذہنی اطمینان  حاصل ہوتا ہے۔


کامیابی کے اصولوں کو کھوجنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ یہاں پر دی گئی صرف ایک حدیث مبارکہ ﷺ کا مطالعہ کر لیں، آپ کو اپنے ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔


کامیابی کے اصول سے متعلق جامع حدیث


ایک بدو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ۔آپ ﷺ کی طرف سے اجازت ملنے پراس نے مندرجہ ذیل سوالات کیے:


عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں امیر ( غنی ) بننا چاہتا ہوں – فرمایا قناعت اختیار کرو امیر ہو جاؤ گے۔


عرض کی میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں – فرمایا تقویٰ اختیار کرو عالم بن جاؤ گے۔


عرض کی عزت والا بننا چاہتا ہوں – فرمایا مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو ، باعزت ہو جاؤ گے۔


عرض کی اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں – فرمایا لوگوں کو نفع پہنچاؤ۔


عرض کی عادل بننا چاہتا ہوں – فرمایا جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو۔


عرض کی طاقتور بننا چاہتا ہوں – فرمایا اللہ تعالی پر توکل کرو۔


عرض کی اللہ تعالی کے دربار میں خاص خصوصیت کا درجہ چاہتا ہوں – فرمایا کثرت سے ذکر کرو۔


عرض کی رزق کی کشادگی چاہتا ہوں – فرمایا ہمیشہ باوضو رہو۔


عرض کی دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں – فرمایا حرام نہ کھاؤ۔


عرض کی ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں – فرمایا اچھے اخلاق پیدا کر لو


عرض کی اللہ تعالی کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں – فرمایا فرائض کا اہتمام کرو۔


عرض کی احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں – فرمایا اللہ تعالی کی ایسی بندگی کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو یا جیسے وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔


عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کیا چیز گناہوں کی معافی دلاے گی – فرمایا آنسو ، عاجزی ، بیماری۔


عرض کی کیا چیز دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرے گی – فرمایا دنیا کی مصیبتوں پر صبر۔


عرض کی اللہ تعالی کے غصے کو کیا چیز سرد کرتی ہے – فرمایا چپکے چپکے صدقہ اور صلح رحمی۔


عرض کی سب سے بڑی برائی کیا ہے – فرمایا بد اخلاقی اور بخل – عرض کی سب سے بڑی اچھائی کیا ہے۔


فرمایا اچھے اخلاق تواضع اور صبر – عرض کی اللہ تعالی کے غصے سے بچنا چاہتا ہوں – فرمایا لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ  دو۔ کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو خود پر اعتماد ہو، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ، پھر دیکھے کامیابی کیسے آپ کے قدم چومتی ہے

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی