کائنات اور انسان کی تخلیق کا مقصد


 1۔فرمایا میں پہچانا جاؤں۔

حضرت محمدﷺ نے اس کو حکایت کیا اللہ رب العزت سے کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا پس میں نے پسند کیا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔اور قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔


 میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔

سب سے پہلے قلم پیدا کیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور قلم کو حکم دیا کہ لکھو۔اس نے عرض کیا کیا لکھوں۔اللہ تعالٰی نے فرمایا تقدیر جو گذر چکی ہے اور جو ہمیشہ ہونے والہ ہے قیامت تک۔(جامع ترمذی)

2۔اس نے ساری کائنات کن کہ کر چھ دن میں بنائی۔

 اللہ ہی وہ ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا  تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے ،   اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے یہ کہ  تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے

3۔دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا۔

 آپ کہہ دیجئے! کہ تم اس ( اللہ )  کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کر دی  سارے جہانوں کا پروردگار وہی ہے ۔  

 وہ زمین اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے ،  وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا ،  بس وہی ہو جاتا ہے 


 اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیئے  اور اس میں برکت رکھ دی  اور اس میں  ( رہنے والوں )  کی غذاؤں کی تجویز بھی اسی میں کر دی   ( صرف )  چار دن میں  ضرورت مندوں کے لئے یکساں طور پر  

4۔انسان کی تخلیق کا مقصد۔

 اور جب تیرے رب نے فرشتوں  سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں  نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ؟ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں ۔  اللہ تعالٰی نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے

5۔آسمانوں اورزمین اور پہاڑوں کا امانت اٹھانے سے انکار۔

 ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پراور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے  ( مگر )  انسان نے  اسےاٹھا لیا ،   وہ بڑا ہی ظالم جاہل ہے  ۔  

6۔ابلیس کا سجدہ آدم سے انکار۔

 اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو  تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا ۔  اس نے انکار کیا  اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں ہو گیا ۔

7۔عالمِ ارواح میں ہماری روحوں سے دو عہد۔

 اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں ۔   تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے ۔  

 اے اولاد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا ،   وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

7۔حضرت آدم ؑ و حوا اور ابلیس کا زمین پر اترنا۔

 لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا  اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ !تم ایک دوسرے کے دشمن ہو  اور ایک وقتِ مقّرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔  

8.حمل کے 120 ویں دن روح کا عالمِ ارواح  سے زمین پر اترنا۔

ایک فرشتہ حمل کے 120ویں دن اللہ کے حکم سے روح لے کر عالمِ ارواح سے روح لے کر ماں کے پیٹ میں میں منتقل کرتا ہے اور چار چیزیں رزق ،موت کا وقت،نیک بخت اور بد بخت لکھ جاتا ہے۔

9۔نفسِ عمارہ اور نفس لوامہ۔

 اورشیطان کا ان پر کوئی زور  ( اور دباؤ )  نہ تھا مگر اس لئے کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ظاہر کر دیں ان لوگوں میں سے جو اس سے شک میں ہیں ۔  اور آپ کا رب  ( ہر )  ہرچیز پر نگہبان ہے ۔

10۔کراماً کاتبین۔

 جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے ۔

 ۔   ( انسان )  منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کے اس کے پاس نگہبان تیار ہے ۔

 11۔انسان کی تخلیق کا مقصد۔

 میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔ہ

ہمارے لئے تو رسول اللہ کی ذات ایک کامل نمونہ ہے۔

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ  ( موجود )  ہے  ،  ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالٰی کی یاد کرتا ہے ۔  ہمیں چاہیے کہ ہم رسول اللہ کی عبادت کریں اور اتبّاع کریں۔



 








تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی