تمباکو نوشی کا خاتمہ۔ آج کے دور میں سگریٹ ایک وبا کی طرح پھیل چکا ہے۔ بڑا ہو یا چھوٹا، سب اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ حالانکہ سگریٹ کے ڈبے پر وارننگ لکھی ہوتی ہے کہ سگریٹ دل کی بیماریوں اور کینسر کا سبب ہے۔ جو لوگ سگریٹ کا آدھا پیکٹ پیتے ہیں وہ تابکاری کا شکار ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں کا کینسر اسی تابکاری کا نتیجہ ہے۔ اب میں آتا ہوں کہ اس میں تابکاری کیسے پیدا ہوتی ہے۔ تابکار عناصر کے پیدا ہونے کی وجہ کھیتوں میں لگائی جانے والی فاسفیٹ کھاد ہے۔ یہ کھاد یورینیم سے بھرپور ہے۔ یورینیم چین کے رد عمل سے بنتا ہے۔ جس سے یورینیم ریڈیم 226 بناتا ہے جو ریڈون 222 میں تبدیل ہوتا ہے۔یہ دو ایک جیسے تابکار عناصر ہیں۔ اگر تمباکو کے پتوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پتوں پر لیس دار بال ہوتے ہیں۔ اور جب ہوا چلتی ہے تو کھادوں سے نکلنے والی تابکاری زمین سے اڑا کر پتوں میں جذب ہو جاتی ہے۔ سگریٹ کے ایک پف میں تقریباً 4000 مختلف کیمیائی مرکبات ہوتے ہیں۔ اس میں گھنٹے لگتے ہیں۔ یہ تابکار ذرات عموماً چھ ماہ تک پھیپھڑوں سے نہیں نکلتے۔ . سگریٹ کے قریب بیٹھے شخص پر زیادہ برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح، ہماری سگریٹ نوشی ہمارے ارد گرد کے لوگوں اور ہمارے خاندان کے لیے ایک سنگین اور خطرناک صورتحال پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف ہم پیسہ ہوا میں اڑا دیتے ہیں، دوسری طرف دمہ، کینسر۔ دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہو کر موت کو دعوت دیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سگریٹ سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ سگریٹ نشہ آور چیز ہے۔ اس لیے ہمیں خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی ان سے اور اپنے بچوں سے بچنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ ہوشیار رہیں کہ وہ بری عادتوں میں نہ پڑ جائیں۔ اللہ ہمیں اس مصیبت سے محفوظ رکھے
سگریٹ نوشی کا انجام
نصیب کی دنیا
0
Tags
سگریٹ نوشی

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box