تصوّف کیا ہے۔


رسول ﷺ نے فرمایا المعرفة راس مالی معرفت میری اصل پونجی ہے۔معرفت لغت میں شناخت کو کہتے ہیں۔معرفت کی ابتدا خود نفسِ انسانی کی شناخت سے ہوتی ہے۔ لغت اور شرح میں معرفت اور علم کے دو الفاظ ہین جو شناخت کے لئے آتے ہیں۔اہلِ علم کے نزدیک لفظ علم کا درجہ لفظ معرفت سے برتر ہے۔گو متصوّفین کی اصطلاح میں اب لفظ معرفت کا درجہ لفظ علم سے برتر  جاتا ہےاللہ تعالٰی سورہ المائدہ میں فرماتے ہیں۔اور جب وہ رسول کی طرف نازل کردہ( کلام )  کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ،  وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نےسورہ بقرہ میں فرمایا۔ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں  کو پہچانے ،  ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے ۔سورہ یوسف میں ارشاِربانی ہے۔  یوسف کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے اسے نہ پہچانا ۔ 
معرفت سے مراد جاننا‘ پہچاننا اور کسی شے یا ہستی کے متعلق علم حاصل کرنا ہے۔ جس طرح دنیاوی علم کا حصول دنیا میں ترقی کرنے کے لیے لازم ہے۔بلحاظ معنی معرفت کسی شے کی ذاتی شناخت کو کہتے ہیں اور علم کا اطلاق اس شے کی کے اندرونی حالات پر آتا ہے۔شبلی فرماتے ہیں۔عارف کو تعلقات سے کیا علاقہ،محب کو شکوہ سے کیا نسبت،بندہ کو دعویٰ سے کیا تعلق۔جنید بغدادی سے پوچھا گیا کہ عارف کسے کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں۔پانی کا رنگ ظرف کے رنگ سا  پرنظ آتا ہے۔ذالنون مصری کہتے ہیں۔معرفت کی تین نشانیاں ہیں۔1 نور معرفت پر نور ورع غالب ہو۔٢۔اعتقادِ باطن حالت ظاہر سے متناقض نہ ہو۔ ٣۔نعم الٰہیہ  کی فراوانی  سے محارم الٰہیہ میں نہ گر پڑے۔معرفت وہ نور ہی جو مومن کے سینے میں رکھ دیا جاتا ہے۔کہ وہ صفات کو سمجھ سکے اور شواہد و براہین کا استعمال کر سکے۔سلوک کا معنی ہے راستہ یعنی اللہ تعالیٰ کے قرب اور وصل کے راستے پر چلنا۔ سالک وہ ہے جو قرب حق کے راستوں اور طریقت کی منزلوں کو مجاہدات و ریاضات اور اتباع سنت و شریعت کے ذریعے طے کر کے مقصودتک پہنچے۔  تصوف ،طلب قرب حق، فنائے بشریت اور بقائے الوہیت، حق تعالٰی کا قرب چاہنا۔
 جذب کا معنی کشش ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا بندے کو اپنی طرف کھینچ لینا مجذوب وہ ہے جس پر اللہ کی طرف سے ایسا جذبہ طاری ہو جائے کہ بلا کسب ومجاہدہ محض اللہ کے فضل سے اس کے باطنی مقامات طے ہوجائیں اور واصل باللہ ہو جائے لیکن بقا بعد الفنا کے مرتبے تک نہ پہنچ سکے۔حقیقت یہ ہے کہ معرفت سے ہیبت پیدا ہوتی ہےاور اس ہیبت ہی کے اندر انس و انشراح ہوتا ہے۔ایک حدیث پاک میں اللہ ﷻ کے رسولﷺ نے فرمایا۔میں تم  سب سے بڑھ کر اللہ کا عرفان رکھتا ہوں اور سب سے زیادہ مغیشیت والا ہوں۔اور جب ایک انسان آگے بڑھ کر وہ  صفات  وذات کی تفریق سے اجتناب کرتا ہے اور آگے بڑھ کر وہ جملہ وسائل وسائط ، براہین اور شواہد سے منہ موڑ کر اپنے قلب و روح کو اپنے مالک کے انعام پر چھوڑ دیتا ہے تب اس کو معرفت کا حصہ بقدرِظرف مل جاتا ہے۔صراط الذین انعمت علیھم کا اشارہ اسی طرف ہے۔


تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی